اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، عزت اور آئینی حقوق درکار ہیں، مزید تجربات نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناکام پالیسیوں پر نظرثانی اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مؤثر حکمت عملی تشکیل دینا ناگزیر ہے۔

اپنے اہم بیان میں اسد قیصر نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم امن کے قیام کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ 40 سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، جبکہ ان کا بنیادی مطالبہ امن، تحفظ اور بہتر مستقبل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کے بجائے عوام کو امن فراہم کیا جائے۔ امن جرگے کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد نہ ہونے، صوبے کے مالی حقوق اور ضم شدہ اضلاع کے لیے وسائل کی فراہمی میں تاخیر پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔

اسد قیصر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، آئینی اختیارات اور صوبائی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بلوچستان میں بھی امن و امان کے سنگین مسائل موجود ہیں تو کیا وہاں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا؟

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ سیاسی انتقام یا صوبائی حکومتوں کو کمزور کرنے کے بجائے مشترکہ قومی حکمت عملی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ منتخب نمائندوں کو بے اختیار کرنا کیا ووٹ کو عزت دینے کے مترادف ہے؟

انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبے کے آئینی حقوق کا احترام کرے، واجب الادا مالی وسائل فراہم کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے جامع پالیسی تشکیل دے۔

اسد قیصر نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، انصاف، عزت اور ان کے آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔