اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے حکومت کی پٹرولیم پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے مقامی تیل پر بھی فی لیٹر 80 روپے لیوی عائد کرنے کی منطق حکومت کو اعداد و شمار کے ساتھ واضح کرنی چاہیے۔
نصراللہ رندھاوا نے سوال کیا کہ پاکستان کی اپنی زمین سے نکلنے والے تیل پر بھی درآمدی تیل کی طرح لیوی کیوں وصول کی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مقامی تیل نہ کسی غیر ملکی بندرگاہ سے درآمد ہوتا ہے، نہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور نہ ہی اسے بیرون ملک سے خریدنے کے لیے زرمبادلہ خرچ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ مقامی تیل کو درآمدی تیل کے ساتھ شامل کرکے عوام سے اسی انداز میں لیوی وصول کرنے کی کیا وجہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے سوال اٹھایا کہ اس پالیسی سے اربوں روپے کا مالی فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی تیل کی قیمت، لیوی اور ریفائنری مارجن کے موجودہ نظام میں کسی فریق کو خصوصی مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے تو حکومت اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے۔
نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ قوم خیرات نہیں مانگ رہی بلکہ اپنے پیسے کا حساب مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت کے سامنے تحقیق، تیاری اور اعداد و شمار کے ساتھ سوالات رکھے جائیں گے تو محض روایتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب سوال بھی ہوگا، حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کو جواب بھی دینا ہوگا۔