کلرسیداں: نلہ مسلماناں میں 9 سالہ مدرسہ طالب علم محمد فیضان کی مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاکت کے افسوسناک واقعے پر علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

ممبر سنسر بورڈ حکومتِ پاکستان محمد ظریف راجہ نے کلرسیداں میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کمسن محمد فیضان کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

محمد ظریف راجہ نے کہا کہ کمسن بچے پر مبینہ طور پر تشدد کیا جانا اور اس کے نتیجے میں اس کی جان چلی جانا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں مقتول بچے کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں اور مبینہ واقعے میں ملوث ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

محمد ظریف راجہ نے مزید کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران الزامات ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔