6 مارچ 1960 پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا، جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے بوئنگ 707 طیارے کے ذریعے باقاعدہ جیٹ سروس کا آغاز کیا۔ یہ پاکستان کی پہلی جیٹ ایئرلائن پرواز تھی اور اس وقت پی آئی اے دنیا کی ان چند فضائی کمپنیوں میں شامل تھی جنہوں نے نسبتاً ابتدائی دور میں جیٹ طیارے کو اپنے فضائی بیڑے کا حصہ بنایا۔
پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی جیٹ پرواز کراچی سے لندن کے لیے روانہ ہوئی، جس کے راستے میں قاہرہ اور روم میں قیام شامل تھا۔ بوئنگ 707 کی شمولیت نے نہ صرف پاکستان اور یورپ کے درمیان فضائی سفر کو ایک نئے دور میں داخل کیا بلکہ ملکی ہوا بازی کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کیا۔
اس دور میں جیٹ طیارے جدید فضائی سفر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ بوئنگ 707 کی رفتار، مسافروں کی گنجائش اور طویل فاصلے تک پرواز کی صلاحیت نے بین الاقوامی فضائی سفر کے انداز کو تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔ پی آئی اے کا اس جدید طیارے کو اپنے بیڑے میں شامل کرنا پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی اور ہوا بازی کے میدان میں ایک اہم قدم تھا۔
پی آئی اے کی بوئنگ 707 سروس کا آغاز ایشیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں بھی ایک نمایاں پیش رفت سمجھا گیا۔ اس وقت خطے میں بہت کم فضائی کمپنیوں نے اتنی جلدی جیٹ طیاروں کو اپنی باقاعدہ سروس کا حصہ بنایا تھا۔
پی آئی اے نے اس نئے دور کو اپنی تشہیری مہمات کے ذریعے بھی نمایاں کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق جے پور کی مہارانی گایتری دیوی نے اپنے شوہر کے ہمراہ پی آئی اے کی بوئنگ 707 پر سفر کیا، جسے ایئرلائن نے اپنی مارکیٹنگ میں بھی استعمال کیا۔
یوں 6 مارچ 1960 کو شروع ہونے والی بوئنگ 707 سروس محض ایک نئی پرواز کا آغاز نہیں تھی بلکہ پاکستان کے عالمی فضائی رابطوں، جدید ہوا بازی اور بین الاقوامی شناخت کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ کراچی سے لندن تک اس تاریخی پرواز نے ایک ایسے دور کی بنیاد رکھی جس میں پی آئی اے کا شمار خطے کی نمایاں فضائی کمپنیوں میں ہونے لگا۔