گزشتہ دو دنوں سے ایجوکیشن آفس چترال میں کلاس فور کے ملازمین کی خرید و فروخت کے الزامات سننے میں آ رہے ہیں اور یہ الزامات لگانے والے کوئی اور نہیں بلکہ اس وقت چترال میں جس پارٹی کی حکومت ہے،ان کے اپنے ذمہ داران اور عہدیداران ہیں۔گزشتہ دنوں سے واٹس ایپ وائس نوٹس پورے چترال میں وائرل ہیں جن میں پارٹی کے ذمہ داران مبینہ طور پر الزام لگا رہے ہیں کہ پیسوں کے عوض ملازمتیں فروخت کی جا چکی ہیں۔
اب میں ایک سوال آپ لوگوں سے کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ اپنے ضمیر اور دل سے پوچھ کر جواب دیں گے۔فرض کریں کہ آج سینیٹر محمد طلحہ محمود چترال کا منتخب نمائندہ ہوتا تو کیا
وہ اسی طرح نوکریاں بیچنے کی منڈی لگاتا؟
کیا انہیں واقعی نوکریاں مستحق افراد کو دینے کے بجائے بیچ کر کھانے کی ضرورت پیش آتی؟
ان کے ماتحت ان کا نام استعمال کرکے اگر کوئی یہ کرنے کی کوشش کرتا تو کیا وہ چپ چاپ رہتے؟
میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج سینیٹر محمد طلحہ محمود چترال کے منتخب نمائندے ہوتے تو اس طرح نوکریاں بیچنے کی منڈی لگانے کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا،کیونکہ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اپنے گزشتہ دورے میں ہی کروڑوں روپے سیلاب زدگان پر نچھاور کر دیے ہیں۔انہیں اس طرح چند لاکھ روپے کی نوکریاں بیچنے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنا نوازا ہے کہ وہ خود ہزاروں لوگوں کو اپنی فیکٹری میں نوکریاں فراہم کرتے ہیں۔
تلخ اور حقیقت یہی ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے اس طرح نوکریاں بیچ کر،کرپشن کرکے، پوری محنت کے ساتھ پانچ سال میں جو بھی حرام کا پیسہ بناتے ہیں،وہ سارا سینیٹر محمد طلحہ محمود کی ایک دن کی آمدنی ہے۔
اس لیے چترال کے لیے ایسا نمائندہ ہونا چاہیے جو سب سے پہلے خود قابلِ استطاعت ہو،عوام کا حق کھانے کے بجائے اپنے حلال کے پیسے سے عوام پر خرچ کرنے والا ہو اور ایسا لیڈر صرف اور صرف سینیٹر محمد طلحہ محمود ہیں۔