اسلام آباد: تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی بڑی ناکامی یہ ہے کہ مقبول ترین سیاسی جماعت ہونے کے باوجود وہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے موجودہ حکومت کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک ایسی حکومت کو بھی نہیں گرا پارہی جسے وہ خود فارم 47 کی حکومت قرار دیتی ہے، جبکہ پارٹی کے بعض رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ حکومت موجود ہے لیکن پارٹی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک صرف دھرنے دینے یا سڑکوں پر آنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے ایک مکمل لائحہ عمل درکار ہوتا ہے۔ ان کے بقول سیاسی تحریک ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسے ملک گیر سطح پر منظم انداز میں چلایا جاتا ہے۔

مظہر عباس نے کہا کہ حکومت کو فاشسٹ یا بیساکھیوں پر کھڑی حکومت قرار دیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو ایک منظم تحریک میں تبدیل نہیں کر پا رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج اور کنٹینرز کی وجہ سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے تو حکومت اس نقصان کو برداشت کرلیتی ہے، تاہم پی ٹی آئی حکومت کی حمایت کا سیاسی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔

تجزیہ کار کے مطابق پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے، تاہم وہ اپنے دعووں کے مطابق ایک منظم ملک گیر تحریک چلانے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی کو اتنے زیادہ ووٹ ملے تھے تو اس تناسب سے لوگ سڑکوں پر کیوں نظر نہیں آرہے۔

مظہر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان کی رہائی بھی نہیں کرا سکی، اس کے باوجود مسلسل حکومت کی ناکامی کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کی طویل قید اور میڈیا و عدلیہ سے متعلق پی ٹی آئی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی سیاسی پوزیشن پر بھی تبصرہ کیا۔

انہوں نے 26 نومبر کے بعد کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اس احتجاج کے دوران فائرنگ ہوئی تھی تو پی ٹی آئی نے اگلے روز ملک گیر احتجاج کی کال کیوں نہیں دی اور خیبرپختونخوا کو بھی اگلے روز بند کیوں نہیں کیا گیا۔

مظہر عباس نے کہا کہ اس وقت دو سیاسی جماعتیں مارچ کی کال دے رہی ہیں، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی جس نوعیت کی ملک گیر تحریک کا دعویٰ کرتی ہے، اس کی عملی صورت ابھی پوری طرح سامنے نہیں آ رہی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے رواں ماہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی اور پارٹی رہنماؤں نے اسے پُرامن احتجاج قرار دیا تھا۔