تحریر محمد اقبال اعوان
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر طاقت کے غلط استعمال، اداروں کی رسہ کشی اور جمہوریت کے گلے پر چھری چلانے کی داستانیں کھنگالی جائیں، تو گورنر جنرل ملک غلام محمد کا دور (1951ء تا 1955ء) سب سے زیادہ تلخ اور عبرت ناک نظر آتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے پالیسی ساز ادارے اور گورنر جنرل ہاؤس کسی سیاسی فلسفے کے تحت نہیں، بلکہ ایک شدید علیل، فالج زدہ اور ذہنی توازن کی حد تک چچڑے شخص کی مرضی کے تابع ہو چکے تھے۔
ملک غلام محمد پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ معاشیات اور پاکستان کے پہلے وزیرِ خزانہ تھے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جب وہ ملک کے تیسرے گورنر جنرل بنے، تو اس وقت ملک کی سول اور ملٹری بیوروکریسی (جس میں چوہدری محمد علی اور سکندر مرزا جیسے کردار پیش پیش تھے) نے سیاستدانوں کو مات دینے کے لیے انہیں ایک فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن المیہ یہ تھا کہ جس وقت وہ ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنے، وہ جسمانی طور پر اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں رہے تھے۔
طویل علالت، فالج اور منہ کے کینسر نے ان سے بولنے کی طاقت چھین لی تھی۔ وہیل چیئر تک محدود اس شخص کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ انگریز پرائیویٹ سیکرٹری مس روتھ بورل (Miss Ruth Borrell) کی مدد کے بغیر ایک جملہ بھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ مس روتھ ان کے گنگنانے اور اشاروں کو سمجھ کر فیصلے کرتی تھیں۔
تاریخ کے اوراق میں ملک غلام محمد کے بارے میں ایک ایسی دردناک اور عجیب حقیقت بھی درج ہے جو کسی سیاسی طنز سے کم نہیں۔ طاقت کے اس ہما کو سنبھالنے والے گورنر جنرل صاحب کا غصہ جب اپنے عروج پر ہوتا اور کوئی وزیر یا سیاسی رہنما ان سے ملنے آتا، تو وہ بولنے کے بجائے اپنی چھڑی (سٹک) اٹھاتے۔ ان کے کمرے میں ایک تختہ یا بورڈ رکھا ہوتا تھا جس پر مختلف سخت اور غلیظ گالیاں درج ہوتی تھیں۔ مہمان کے آتے ہی وہ اپنی چھڑی اس بورڈ پر لکھی ہوئی کسی گالی پر رکھ دیتے—یوں مہمان کو بغیر ایک لفظ کہے بتا دیا جاتا تھا کہ گورنر جنرل کی نظر میں اس کی کیا اوقات یا حیثیت ہے۔
یہ قصہ محض ایک سنکی حکمراں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے ستم ظریفی کا استعارہ ہے کہ جو ملک ابھی نو زائیدہ تھا، اس کی تقدیر ایسے شخص کے ہاتھ میں تھی جو خود اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھتا تھا۔ اسی بے اختیاری اور نیم مدہوشی کے عالم میں انہوں نے اکتوبر 1954ء میں پاکستان کی پہلی منتخب دستور ساز اسمبلی کو توڑ دیا، جو ملک کو آئین دینے کے آخری مراحل میں تھی۔ جب اس غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، تو ہمارے نظام نے "نظریہ ضرورت” کی وہ بنیاد رکھی جس نے آگے چل کر پورے ملک کو آئین اور قانون سے محروم کر دیا۔
اگست 1955ء میں جب ملک غلام محمد کی بیماری نے انہیں مکمل طور پر معطل کر دیا، تب جا کر انہیں اس منصب سے سبکدوش کیا گیا اور وہ چند ماہ بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ملک غلام محمد کا یہ دور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے جب طاقت اداروں کی آئینی بالادستی سے نکل کر شخصی یا پسِ پردہ گٹھ جوڑ کے سپرد ہو جائے، تو ریاست کس طرح تماشا بن جاتی ہے۔ گالیوں سے بھرا وہ تختہ اور اشاروں پر چلنے والی حکومت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس سے آج بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔