تحریر: انجینئر فرزند علی خان
الحمدللہ آج ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے
فخر و خادم شانگلہ و سوات ملاکنڈ ڈوژن و خیبرپختونخوا امیر مقام صاحب کو ووٹ دیا۔
خیبرپختونخوا کے ایک دور افتادہ پہاڑی ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر نے نہ صرف شانگلہ بلکہ اپنے پورے ملاکنڈ ڈویژن سمیت پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں بے پناہ عوامی خدمات و اپنی سیاسی جدوجہد، محنت، اور صلاحیت کے بل بوتے پر اسلام آباد کے ایوانوں میں اپنی جگہ بنائی۔ آج وہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے صوبائی صدر ہیں، جبکہ ان کے بھائی خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی سمیت دیگر اہم سیاسی خاندانوں کے نمائندے موجود تھے، لیکن شانگلہ سے آنے والی قیادت نے اپنی سیاسی قوت اور جماعت کے اعتماد کی بنیاد پر قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب حاصل کیا۔
دوسری طرف، شانگلہ ہی سے تعلق رکھنے والے شوکت یوسفزئی ہیں، جو 1996ء سے عمران خان کے ساتھ وابستہ اور تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کو خط لکھ کر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دی۔
آج کی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کے درمیان لانگ مارچ کے حوالے سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ حکومتی وفد میں امیر مقام بھی موجود ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے ایک اہم ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، شوکت یوسفزئی کے خط کے بارے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے منسوب یہ بیان سامنے آیا کہ انہیں خط موصول نہیں ہوا، اور اگر ملا تو وہ اسے پھاڑ کر ڈسٹ بن میں ڈال دیں گے۔
یہاں سوال کسی ایک شخصیت کی تعریف یا دوسری کی تضحیک کا نہیں۔
سوال سیاسی جماعتوں کے اپنے کارکنوں اور قیادت کے ساتھ رویے کا ہے۔
ایک ہی ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والی دو سیاسی شخصیات کو دیکھیں:
ایک طرف امیر مقام صاحب ہیں، جنہیں ان کی جماعت مسلسل اہم ذمہ داریاں، عزت اور سیاسی کردار دے رہی ہے۔
دوسری طرف شوکت یوسفزئی ہیں، جو برسوں سے ایک جماعت کے ساتھ وابستہ رہے، مگر آج ان کے سیاسی مشورے اور خدشات کو جس انداز میں نظرانداز کیا جا رہا ہے، وہ خود ایک سوال ہے۔
فرق صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں، سیاسی کلچر کا بھی ہے۔
کارکن اختلاف کرے، مشورہ دے یا خدشات کا اظہار کرے، تو اسے سننا، دلیل سے جواب دینا اور عزت دینا ہی جمہوری سیاست کی خوبصورتی ہے۔
شانگلہ کی سیاست ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ
جماعت اپنے کارکن کو کیا دیتی ہے، اور مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کیسے کھڑی ہوتی ہے؟
فرق صاف واضح ہے۔
اللہ تعالی ہمارے شانگلہ و سوات ملاکنڈ ڈوژن اور پورے خیبرپختونخوا کے بچے بچے کی پہچان و خادم امیر مقام صاحب کو سدا سلامت رکھے ثم آمین