ایبٹ آباد: صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہزارہ صوبہ عوام کا مقدر ہے، نئے صوبے اب بن کر رہیں گے، جبکہ ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے ماضی میں منظور کی گئی قراردادیں اور پیش کیا گیا بل اب بھی مؤثر ہیں۔
ایبٹ آباد میں سردار مظہر کی رہائش گاہ پر منعقدہ صوبہ ہزارہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ نئے صوبوں کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ جس اقدام سے عوام کو سہولت اور فائدہ حاصل ہو، اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے کسی موجودہ صوبے کو نقصان نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ پانچ سال کی مدت میں بھی پورے صوبے کا دورہ نہیں کرسکتا، جبکہ کوہستان سے پشاور تک سفر کرنے میں پورا دن درکار ہوتا ہے، اس لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے سرکاری اخراجات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوگا، موجودہ کمشنر اور ڈویژنل پولیس افسران کے دفاتر کو ہی صوبائی سیکریٹریٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزارہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے، یہاں موجود ڈیمز سے ملک کو بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ حطار صنعتی علاقے سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ ہزارہ میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، اگر صوبہ قائم کرکے علاقے کے وسائل یہیں خرچ کیے جائیں اور بنیادی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے تو ہزارہ عالمی سطح پر اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کے حوالے سے قراردادیں اب بھی مؤثر ہیں اور اس سلسلے میں بل دونوں ایوانوں میں موجود ہے، ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے سات نوجوانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں آج ملک بھر میں نئے صوبوں کی بات ہورہی ہے، ان شاء اللہ شہداء کا خون رنگ لائے گا اور ہزارہ صوبہ ضرور قائم ہوگا۔
سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اگر نئے صوبے قائم کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے ہزارہ صوبہ بننا چاہیے، کیونکہ یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی پر زور دیا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کا بل دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ 2019 میں قومی اسمبلی میں ہزارہ صوبے کے قیام کا بل پیش کیا گیا تھا، جس پر 152 ارکان قومی اسمبلی نے دستخط کیے تھے، تاہم اس وقت ایک اہم موقع ضائع ہوگیا۔ اب ملک کے مختلف علاقوں سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آرہے ہیں، اس لیے ہزارہ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جماعت اسلامی ہزارہ کے امیر عبدالرزاق عباسی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تنظیمی سطح پر پہلے ہی ہزارہ کو صوبہ قرار دے رکھا ہے۔ ہزارہ صوبہ عوام کا مطالبہ ہے اور عوام کی آواز کو اب دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے مخالف وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اقتدار کے خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔
سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما الحاج قلندر لودھی نے کہا کہ وہ روز اول سے صوبہ ہزارہ تحریک کے ساتھ ہیں اور صوبے کے قیام تک اس کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ذمہ داری وفاقی حکومت اور قومی قیادت پر عائد ہوتی ہے، اس لیے عوام کے مفاد میں صوبہ ہزارہ کے قیام کے عمل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
صوبہ ہزارہ تحریک کے مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہزارہ واحد خطہ ہے جہاں عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتیں بھی صوبے کے قیام کے مطالبے پر متفق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہزارہ صوبے کا مطالبہ نسلی یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے۔
پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے حق میں قراردادیں مؤثر ہیں اور ضرورت پڑی تو مزید قراردادیں بھی منظور کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اقتدار عوام تک منتقل کرنا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت بھی ملک میں چار صوبے تھے اور آج بھی چار صوبے ہیں، اس لیے سیاسی قیادت کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
کنونشن سے رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان، سابق صوبائی وزیر سردار اورنگزیب نلوٹھہ، مسلم لیگ ن ہری پور کے صدر سید جنید قاسم شاہ، سابق رکن قومی اسمبلی سردار مشتاق، چیئرمین تحریک صوبہ ہزارہ سردار گوہر زمان، سلطان العارفین جدون، سردار محمد شعیب، سردار شوکت حیات، سردار غلام مصطفیٰ، فاروق شاہ، چوہدری رضا محمد، محمد بن سجاد، سردار سعید، سردار شاہ خان، سردار سید غلام اور چوہدری نذیر سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔