اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی، مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ 20 ستمبر اسلام آباد مارچ ہر صورت ہوگا، جماعتِ اسلامی کا پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف ملک گیر احتجاج، سڑکیں بند، دھرنے، جلسے اور اسلام آباد مارچ عوام کو ریلیف دِلانے، تجارت، صنعت، زراعت، گھریلو صنعت اور صارفین پر پیداواری لاگت کے بڑھتے بوجھ کو قابلِ برداشت بنانے کی جدوجہد ہے. ہر سیاسی، جمہوری پارٹی کو پُرامن احتجاج کا جمہوری حق ہے، پُرامن احتجاج کو یقینی بنانا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے. حکومت، انتظامیہ غیرآئینی، غیرقانونی ہتھکنڈوں سے اجتناب کرے. ملک میں سیاسی بحران، اضطراب اور احتجاج اِس لئے ہیں کہ عملاً ملک اور صوبوں میں حکومتوں کی کوئی رِٹ اور عوامی ساکھ نہیں. عوام اپنے مستقبل سے مایوس کئے گئے ہیں، عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں 25 کروڑ عوام کی ترجمان ہے. جماعتِ اسلامی کے احتجاج کو ملک گیر پذیرائی حاصل ہے، مرد و خواتین، نوجوان، طلبہ و طالبات اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف احتجاج بھرپور، پُرجوش شرکت پُرامن سیاسی. جمہوری، آئینی جدوجہد کی نئی تاریخ ہے.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوامی احتجاج پر حکومت پٹرول پر عوام کو جو بھی ریلیف دے اُس کا خیرمقدم لیکن کرپٹ نظام، کرپشن کے رسیا افراد اور ادارے حکومت کی ہر سکیم کو کرپشن کا دھندہ بناکر حکومت کو ناکام اور عوام کو ریلیف سے محروم کردیتے ہیں. پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اُتار چڑھاؤ سب کو معلوم ہے، لیکن فی لٹر قیمت میں حکومتی لیوی بھتہ نے قیمت کو ناقابلِ برداشت بنادیا ہے. اِس لیوی بھتہ کی مد میں حکومت اب تک اپنے مقررہ ھدف 1468 ارب سے بھی 99 ارب روپے زائد یعنی 1567 ارب روپے صرف گزشتہ ایک سال کے دوران وصول کرچکی ہے، جوکہ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری کے جھٹکوں سے نڈھال عوام کی جیبوں پر ایک اضافی ڈاکہ ہے. اِسی طرح بجلی کی قیمتوں میں نت نئے ٹیکسز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر آئے روز عوام کو لُوٹا جارہا ہے. آٹا جیسی بنیادی خوراک کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے اور سلنڈر گیس سرکاری نرخ پر پورے ملک میں کہیں بھی دستیاب نہیں. لہذا حکومت چکربازیوں سے باز آجائے اور عوام کو حقیقی ریلیف دے، پٹرول پر ریلیف کے لئے رجسٹریشن کے نام پر پہلے بھی عوام سے فراڈ ہوا اور اب بھی عام آدمی کو پیچیدہ ڈیجیٹل بھول بھلیوں سے گزارنے کی بجائے براہِ راست پٹرول، ڈیزل کی قیمت کم کی جائے تاکہ وہ نمائشی اور بیوروکریسی کے گورکھ دھندے کا شکار نہ ہوں اور سکھ کا سانس لے سکیں. عوام کو پائیدار اور حقیقی ریلیف دینے کا واحد اقدام حکومت پٹرولیم مصنوعات کی فی لٹر قیمت پر عائد 80 تا 100 روپے ناجائز لیوی اور ٹیکسز کو ختم کرے، معیشت کا پہیہ چلنے دے، قومی معیشت ترقی کرے گی اور حکومتی ریونیو بھی بڑھے گا.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال سے ٹیلی فون پر بات کی اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق سے ملاقات اور سینئر صحافی، کالم نویس، دانش ور مجیب الرحمن شامی، قیوم نظامی سے بھی ٹیلی فونک تبادلہ خیال ہوا. جماعتِ اسلامی احتجاجی دھرنوں سے 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا آغاز کردے گی، عوامی مسائل کے حل کےلئے مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے. منگل 15 ستمبر کو جماعتِ اسلامی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان پٹرول قیمتوں پر وزیراعظم کی ٹاسک فورس سے میٹنگ اور آئی پی پیز ٹاسک فورس کی میٹنگ میں شریک ہونگے. 16 ستمبر بروز بدھ حکومت اور جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس ہوگا. حکومت عوامی احتجاج کو سنجیدہ لے اور فی لٹر قیمت میں سے لیوی بھتہ ختم کرے، عوام کو ریلیف ملے گا اور معیشت کا پہیہ رواں دواں ہوگا.#