پہلے بھی دو مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدررہ چکے ہیں، ترجمان آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی
پاکستان اکیڈمی آف سائنسز ممتاز سائنس دانوں کی ایک اہم غیر سرکاری علمی انجمن ہے
اسلام آباد: معروف پاکستانی سائنس دان پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن تیسری مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز (پی اے ایس) کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ پروفیسر عطا الرحمٰن اس سے قبل دو مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 2003 سے 2006 تک اور پھر جنوری2011سے اکیڈمی کے صدر رہے۔ اب وہ تیسری مرتبہ بلا مقابلہ اکیڈمی کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق پروفیسر عطا الرحمٰن ممتاز پاکستانی نامیاتی کیمیا دان، آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے پروفیسر ایمیریٹس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے سابق وفاقی وزیر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ1953میں قائم ہونے والی پاکستان اکیڈمی آف سائنسز ممتاز سائنس دانوں کی ایک اہم غیر سرکاری علمی انجمن ہے۔ یہ حکومت پاکستان کے لیے ایک سائنسی مشاورتی ادارے کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔پروفیسر عطا الرحمٰن پاکستان کے سب سے زیادہ اعزازات حاصل کرنے والے سائنس دان ہیں۔ انہیں ملک کے چار اعلیٰ ترین سول اعزازات، تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی انہیں متعدد ممتاز اعزازات سے نوازا گیا، جن میں رائل سوسائٹی (لندن) کی فیلوشپ، یونیسکو سائنس پرائز، ٹواس پرائز فار انسٹی ٹیوشن بلڈنگ اور آسٹریا کی حکومت کا اعلیٰ سول اعزاز شامل ہیں۔ چین کے ساتھ سائنسی تعاون میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں عوامی جمہوریہ چین کے انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جو غیر ملکی سائنس دانوں کے لیے چین کا اعلیٰ ترین سائنسی اعزاز ہے۔ انہیں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کا اکیڈیمیشن (غیر ملکی رکن) بھی منتخب کیا گیا۔ چین، ملائیشیا اور پاکستان میں کئی تحقیقی مراکز ان کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں، جن میں چین کے صوبہ ہونان میں قائم اکیڈیمیشن پروفیسر عطا الرحمٰن ون بیلٹ اینڈ ون روڈ ٹی سی ایم ریسرچ سینٹر اور ملائیشیا میں قائم عطا الرحمٰن انسٹی ٹیوٹ آن نیچرل پروڈکٹ ڈسکوری شامل ہیں۔