اسلام آباد: سینئر صحافی عامر الیاس رانا نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق واضح پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کی سہولت کاری کے الزامات کے پیچھے سیاست کو چھپنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ایکس پر اپنے بیان میں عامر الیاس رانا نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مبینہ عدم دلچسپی، بے حسی اور سست روی پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان معنی خیز ہے۔ ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ جب سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہیں تو صوبائی حکومت آگے کیوں نہیں آتی اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔
عامر الیاس رانا نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ریاست کا وجود سیاست اور جمہوریت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کو محض مجوزہ لانگ مارچ سے جوڑنے کے بجائے دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔
سینئر صحافی نے گفتگو کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ان کے مطابق ایسا کوئی اقدام لانگ مارچ کی بنیاد پر نہیں بلکہ دہشت گردی سے متعلق صوبائی حکومت کے طرزِ عمل کی بنیاد پر کیے جانے کی صورت میں زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ یہ ان کا تجزیہ اور دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ سرکاری تصدیق اس رپورٹ میں موجود نہیں۔
عامر الیاس رانا نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومتی حلقوں نے مختلف آئینی شقوں کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سیاسی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے سرحد پار دہشت گردی کے مبینہ روابط کے حوالے سے شواہد اکٹھے کیے جانے کا بھی ذکر کیا، تاہم ان دعوؤں کی تفصیلات یا آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے وزیراعظم کی حالیہ سرگرمیوں کے حوالے سے بھی کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں جس اجلاس کی اطلاعات سامنے آئیں، اس میں بتائے گئے بعض افراد موجود نہیں تھے، جبکہ ایک اجلاس چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔