اسلام آباد: پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر عمر تیمور عتیق نے انسانیت کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے کلینک کے تقریباً 200 سابق مریضوں کے ساڑھے 6 لاکھ امریکی ڈالر کے بقایا بل معاف کر دیے۔

ڈاکٹر عمر تیمور عتیق کا تعلق پشاور سے ہے، جہاں انہوں نے ابتدائی زندگی گزاری۔ بعد ازاں انہوں نے خیبر میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور مزید تربیت کے لیے امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے سرطان کے علاج کو اپنا شعبہ بنایا۔

ڈاکٹر عمر عتیق نے 1991 میں امریکی ریاست آرکنساس کے شہر پائن بلف میں اپنا کلینک قائم کیا۔ تقریباً 29 برس تک وہ سرطان کے مریضوں کا علاج کرتے رہے اور اس دوران انہیں ایسے خاندانوں کی مشکلات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھے۔

ڈاکٹر عتیق کے مطابق، امریکہ میں طبی بیمہ ہونے کے باوجود مریضوں کو علاج کے بعض اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں، جو طویل علاج کے دوران ان کے لیے بھاری مالی بوجھ بن سکتے ہیں۔ ان کے کلینک میں مالی وسائل یا بیمے کی کمی کی وجہ سے کسی مریض کو واپس نہیں بھیجا جاتا تھا۔

سال 2020 میں کورونا وبا کے دوران عملے کی کمی کے باعث ڈاکٹر عتیق کو اپنا کلینک بند کرنا پڑا۔ تاہم، کلینک بند ہونے کے باوجود متعدد سابق مریضوں کے علاج کے بل واجب الادا تھے، جن کی وصولی کے لیے بلنگ کمپنی کے ذریعے کوششیں جاری رہیں۔

بعد ازاں ڈاکٹر عتیق نے اپنی اہلیہ مہرین کے ساتھ مشاورت کی اور ان مریضوں کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بقایا واجبات معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔

دسمبر 2020 کے اختتام پر کلینک کے تقریباً 200 سابق مریضوں کو خطوط بھیجے گئے، جن میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کے ذمے تمام بقایا بل معاف کر دیے گئے ہیں۔ ان واجبات کی مجموعی مالیت تقریباً 650,000 امریکی ڈالر تھی۔

ڈاکٹر عمر عتیق کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مریضوں کی زندگیوں کو آسان بنانا چاہتے تھے تاکہ وہ مالی پریشانیوں سے کچھ نجات حاصل کر سکیں اور زندگی کے دیگر مسائل کا سامنا بہتر انداز میں کر سکیں۔

تقریباً تین دہائیوں تک سرطان کے مریضوں کا علاج کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کا یہ اقدام انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق کی ایک قابلِ تحسین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔