(عابد حسین دستی)
مصر کے عظیم اسلامی مفکر اور مفسرِ قرآن سید قطبؒ کو جیل میں پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا، لیکن آج تک کوئی نہیں بتا سکتا کہ ان کی قبر کہاں واقع ہے!
جس دن سید قطبؒ کو شہید کیا گیا، اسی دن مصر کی گلیوں اور سڑکوں پر ان کی شہرۂ آفاق تفسیر **’’فی ظلال القرآن‘‘** کے 7 یا 8 ہزار مجموعے، یعنی تقریباً 64 ہزار کتابیں جلا دی گئیں۔
سرکاری طور پر اعلان کیا گیا کہ جس شخص کے پاس سید قطبؒ کی کتابیں پائی جائیں گی، اسے 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔ ان کتابوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان میں ایسا اثر ہے کہ جو انہیں پڑھتا ہے، وہ سید قطبؒ کے افکار سے متاثر ہو کر ان کا پیروکار بن جاتا ہے۔
جب ان کی شہادت کی خبر اخبارات اور مختلف ممالک کے ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے نشر ہوئی تو لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا ہوئے: یہ شخص کون تھا؟ اسے پھانسی کیوں دی گئی؟ اس کی تفسیر میں ایسی کیا بات تھی جس کی وجہ سے اسے تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا؟
کہا جاتا ہے کہ اس دور میں بیروت کے ناشرین کسی عیسائی تاجر کو اشاعت کے کاروبار میں نقصان اٹھاتے دیکھتے تو اسے مشورہ دیتے:
’’اگر تم اپنا کاروبار بچانا چاہتے ہو تو سید قطبؒ کی تفسیر ’فی ظلال القرآن‘ شائع کرو!‘‘
جس سال سید قطبؒ کو پھانسی دی گئی، اسی سال ان کی تفسیر کا ساتواں ایڈیشن شائع ہوا، حالانکہ ان کی زندگی میں یہ کتاب صرف ایک مرتبہ شائع ہوئی تھی۔
آج سید قطبؒ کی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچ چکی ہے اور متعدد زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔
**پھانسی سے ایک رات پہلے کا ایمان افروز واقعہ**
پھانسی سے ایک رات پہلے جیل کے امام کو سید قطبؒ کے پاس کلمۂ شہادت پڑھانے کے لیے بھیجا گیا۔
جیل کا امام آیا اور سید قطبؒ کو کلمہ پڑھانے لگا۔
سید قطبؒ نے پوچھا:
’’آپ یہاں کس لیے آئے ہیں؟‘‘
امام نے جواب دیا:
’’میں آپ کو کلمہ پڑھانے آیا ہوں۔ سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے قیدی کو کلمہ پڑھانا میری ذمہ داری ہے۔‘‘
سید قطبؒ نے پوچھا:
’’یہ ذمہ داری آپ کو کس نے سونپی ہے؟‘‘
امام نے جواب دیا:
’’حکومت نے۔‘‘
سید قطبؒ نے پھر پوچھا:
’’کیا اس ذمہ داری کے بدلے آپ کو تنخواہ بھی ملتی ہے؟‘‘
امام نے کہا:
’’جی ہاں! مجھے حکومت کی طرف سے تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔‘‘
اس پر سید قطبؒ نے فرمایا:
’’عجیب بات ہے! جس کلمے کو پڑھانے کے بدلے آپ تنخواہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں، اسی کلمے کی تشریح و توضیح امتِ مسلمہ کو بتانے کے جرم میں آج مجھے پھانسی دی جا رہی ہے!‘‘
**’’آپ کا کلمہ آپ کی روٹی روزی کا ذریعہ ہے، اور میرا کلمہ مجھے پھانسی کے پھندے تک لے آیا!‘‘**
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی کلمہ زبان پر رکھنے والے لوگوں کے راستے مختلف ہو جاتے ہیں۔ کسی کے لیے وہ روزگار کا ذریعہ بن جاتا ہے، جبکہ کوئی اسی کلمے کے پیغام کو عام کرنے کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرتا ہے۔
**سید قطبؒ کی زندگی اور قربانی کا پیغام یہی ہے کہ حق بات پر ثابت قدم رہنے کے لیے محض کلمہ پڑھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔**