اولان باتور، منگولیا: وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں منعقدہ 25ویں وسطی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
وفاقی وزیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کی مین لائن ون (ML-1) کی جدید کاری کو نہ صرف پاکستان کی قومی ضرورت بلکہ علاقائی تعاون اور رابطوں کے فروغ کا اہم منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے 11 ممالک پر مشتمل کانفرنس میں ML-1 منصوبے کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ بھی دی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ کراچی سے پشاور تک 1,726 کلومیٹر طویل ML-1 پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی کا تقریباً 22 فیصد ہے، تاہم اسی اہم ریلوے راہداری سے ملک کے 76 فیصد مسافر اور 98 فیصد ریلوے مال برداری گزرتی ہے۔ ان کے مطابق اس راہداری کی جدید کاری سے ملک بھر میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
مجوزہ جدید کاری کے بعد ML-1 کی روزانہ ٹرینوں کو سنبھالنے کی گنجائش 34 سے بڑھ کر 120 ٹرینوں تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مال گاڑیوں کی اوسط رفتار 30 سے بڑھ کر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ اور مسافر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
منصوبے کے ابتدائی حصے میں سفر کا دورانیہ تقریباً آٹھ گھنٹے سے کم ہو کر ساڑھے چار گھنٹے تک ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ پاکستان نے 480 کلومیٹر طویل کراچی–روہڑی ریلوے سیکشن کو ترجیحی بنیادوں پر جدید بنانے کی نشاندہی کی ہے، جس پر تقریباً 2.5 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ML-1 کی اہمیت پشاور تک محدود نہیں بلکہ CAREC کے تحت علاقائی روابط میں پیش رفت کے ساتھ یہ منصوبہ وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو پاکستان کی بندرگاہوں اور عالمی منڈیوں سے جوڑنے والی وسیع تر تجارتی راہداری کا حصہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی رابطوں کے لیے سرحد پار ریلوے روابط اور متعلقہ زمینی راستوں پر بھی مشترکہ پیش رفت ضروری ہوگی۔
CAREC کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان نے علاقائی اقتصادی تعاون اور رابطوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ریلوے روابط سے مسافروں اور مال برداری کی نقل و حرکت تیز ہونے کے ساتھ خطے کی مختلف منڈیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔