اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ وہ سیاسی لوگ ہیں، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول سیاسی قیادت اور اداروں، کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
اپنے بیان میں جنید اکبر نے کہا کہ انہیں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سمجھانے میں کوئی شرم نہیں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، تاہم اداروں کی مضبوطی کے ساتھ عوام کا اعتماد بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے اداروں کو ملک کے ادارے سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط رہے۔ ان کے بقول عمران خان کے ساتھ پیش آنے والے معاملات کے باعث عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اس لیے اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات چیت ہونی چاہیے۔
جنید اکبر نے کہا کہ جب بھی حکومت کی جانب سے بات چیت کے لیے ہاتھ بڑھایا گیا، پی ٹی آئی نے اس کا خیرمقدم کیا، تاہم اس کے بعد مقدمات اور وارنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کو صرف باتوں کے بجائے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، اس لیے عمران خان کے مشورے کے بغیر کسی معاملے پر بات نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ جاننا چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاس مذاکرات کا اختیار ہے یا نہیں تو عمران خان سے ان کی ملاقات کروا دی جائے۔
جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان سے بات کرسکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کرسکتے ہیں اور اپنی رائے بھی دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں اختلافِ رائے اور بات چیت کا جمہوری کلچر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں میں ان سے اختلاف بھی ہوتا رہا ہے اور وہ اپنی رائے کھل کر ان کے سامنے رکھتے رہے ہیں۔ جنید اکبر کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ عمران خان کسی کی بات نہیں سنتے۔
جنید اکبر نے حکومت میں مذاکرات کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں وزیراعظم سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں موجودہ حکومت میں اگر کسی شخصیت سے بات کی جاسکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتی ہے تو وہ محسن نقوی ہیں۔