پشاور: قبروں کی بے حرمتی کے مقدمے میں زیرِ حراست ملزم کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جانے والی بڈھ بیر پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں زیرِ حراست ملزم شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ پشاور کے علاقے بڈھ بیر کے شیخان قبرستان میں پیش آیا، جہاں ملزم سلمان ولد افغان کو گزشتہ روز ایک قبر کی مبینہ بے حرمتی کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے متعدد قبروں کی بے حرمتی کا اعتراف کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو مزید تفتیش اور دیگر مبینہ واقعات میں استعمال ہونے والی جگہوں کی نشاندہی کے لیے شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا کہ تین موٹر سائیکلوں پر سوار 6 نامعلوم مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر اچانک فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں سرکاری گاڑی اور ایک پولیس اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر زیرِ حراست ملزم سلمان شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس نے اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ راستے میں دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
واضح رہے کہ پولیس نے ملزم سلمان کو گزشتہ روز شیخان قبرستان میں ایک کمسن بچی کی قبر مبینہ طور پر کھودنے اور میت نکالنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق قبرستان کے چوکیدار نے ملزم کو قابو کیا، جس کے بعد مقامی افراد بھی موقع پر جمع ہوگئے اور اطلاع ملنے پر پولیس نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ایس پی صدر ڈویژن فدا حسین کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم سے ماضی کے واقعات سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ملزم قبریں کھود کر میتوں کو نکالتا تھا اور ابتدائی تفتیش میں دو بچوں اور دو بچیوں کی قبریں کھودنے کا بھی انکشاف ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی عمر 19 سال تھی اور وہ باڑہ قدیم میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔
کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق واقعے کا اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا ہے جبکہ ایس پی صدر ڈویژن فدا حسین کی نگرانی میں ایس ایچ او بڈھ بیر ملنگ جان اور پولیس ٹیم نے کارروائی کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قبروں کی بے حرمتی کے واقعات سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے تھے اور یہ بھی تحقیقات کی جا رہی تھیں کہ آیا ملزم مبینہ کارروائیوں میں اکیلا ملوث تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور شخص بھی شامل تھا۔
پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید وسیع کردیا ہے جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے۔