برصغیر کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ایسے کردار بھی ملتے ہیں جنہوں نے آزادی کے مقصد کے لیے نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں بلکہ اپنے استاد اور رفقا کے ساتھ وفاداری کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انہی عظیم شخصیات میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا نام نمایاں ہے۔
مالٹا کی قید کا ذکر آتا ہے تو شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے ساتھ سید حسین احمد مدنیؒ اور ان کے دیگر رفقا کی قربانیوں کی داستان بھی سامنے آتی ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کو شریف مکہ حسین بن علی نے گرفتار کرکے انگریز حکام کے حوالے کیا۔ اس وقت ان کے ہمراہ چار شاگرد بھی تھے، جن میں سید حسین احمد مدنیؒ بھی شامل تھے۔
قید کے دوران شیخ الہندؒ نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ انگریزی حکومت نے انہیں مجرم سمجھا ہے، لیکن وہ بے قصور ہیں، اس لیے انہیں اپنی رہائی کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم شاگردوں نے اپنے استاد سے وفاداری کا ایسا جواب دیا جس نے ان کے کردار کو تاریخ میں امر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت! جان چلی جائے گی، مگر آپ کی خدمت سے جدا نہیں ہوں گے۔
یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ ایک عہد تھا، جسے ان شاگردوں نے قید کی سختیوں کے دوران عملی طور پر نبھایا۔
مدینہ سے مالٹا تک کا سفر
سید حسین احمد مدنیؒ جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو وہ اپنا آباد گھر، خاندان اور اپنوں کو پیچھے چھوڑ کر نکلے تھے۔ سفر چند دنوں کا خیال کیا گیا تھا، لیکن تقدیر نے اسے ایک طویل اور صبر آزما سفر بنا دیا۔
گرفتاری، مقدمہ، سزا اور پھر مالٹا کی قید۔ حالات مسلسل دشوار ہوتے گئے، یہاں تک کہ پھانسی دیے جانے کی خبریں بھی گردش کرنے لگیں۔ تاہم اپنے استاد شیخ الہندؒ کی قربت اور ان کی پدرانہ شفقت نے اسیری کی سختیوں کو کسی حد تک قابل برداشت بنائے رکھا۔
سید حسین احمد مدنیؒ اور ان کے ساتھی قید و بند کی صعوبتیں صبر، استقامت اور شکر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ مگر مالٹا کی قید نے ان کے لیے ایک اور انتہائی کڑا امتحان بھی محفوظ کر رکھا تھا۔
ایک ساتھ سات جنازوں کی خبریں
کئی ہفتوں تک رکی ہوئی ڈاک ایک روز پہنچی۔ قید کی تنہائی میں اپنے گھر والوں کے خطوط کا انتظار یقیناً امید کا ایک سہارا تھا، لیکن جب وہ ڈاک پہنچی تو ہر خط اپنے اندر ایک صدمہ لیے ہوئے تھا۔
خط در خط خاندان کے کسی نہ کسی فرد کی وفات کی خبر تھی۔ یوں ایک ہی وقت میں سید حسین احمد مدنیؒ کو اپنے والد، جواں سال بیٹی، ہونہار بیٹے، جانثار اہلیہ، بیمار والدہ اور دو بھائیوں سمیت خاندان کے سات افراد کی وفات کی جانکاہ اطلاعات ملیں۔
موت برحق ہے، لیکن کسی انسان کے لیے یہ تصور ہی کتنا کرب ناک ہوگا کہ وہ اپنے سات عزیزوں کے انتقال کی خبریں ایک ہی وقت میں، وہ بھی ہزاروں میل دور قید کی حالت میں وصول کرے۔
یہ ایسا صدمہ تھا جسے برداشت کرنے کے لیے واقعی پہاڑ جیسا حوصلہ درکار تھا۔ مگر سید حسین احمد مدنیؒ کی زندگی کا امتیاز ہی صبر، استقامت اور مقصد سے وفاداری تھا۔ ذاتی غم کی اس انتہا کے باوجود انہوں نے اپنے مشن اور اپنے استاد کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
مالٹا کی وہ قید صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عزم، وفاداری، قربانی اور صبر کی ایسی داستان ہے جو برصغیر کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ سید حسین احمد مدنیؒ نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی کٹھن دور میں جس استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے قربانی اور ثابت قدمی کی ایک روشن مثال بن گیا۔