اسلام آباد: سینئرصحافی سجاد اظہر نے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں لکھاکہ ڈاکٹر مقصود جعفری کو ستارہ امتیاز ملنے کی خوشی میں اکادمی ادبیات میں ایک خوبصورت شام منائی گئی۔ جہاں ہماری ملاقات ڈاکٹر شازیہ اکبر سے ہوئی وہ ماہر تعلیم ہیں اور ان کا تعلق بھی اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے ہے ان کی یہ نظم کرینہ نا بوٹا کیا ہی خوبصورت اظہاریہ ہے۔

اس بارانی اور صحرائی درخت کے استعارے کو انہوں نے جس خوبصورت انداز میں پوٹھوہاری زبان میں برتا ہے یہ انہی کا خاصا ہے۔ ہو سکتا ہے میرے بہت سے احباب پوٹھوہاری نہ جانتے ہوں وہ اس نظم کا اردو ترجمہ اے آئی سے کروا کر اسے انجوائے کر سکتے ہیں

کرینہہ نا بُوٹا

میں گاڑاں نے لاہنے پاسے ہِک بارانی بُوٹا

مینڈی کُڑّکنی لکڑ سہوے نہ سدراں ناں جھُوٹا

نہ پَتر نہ لانگی مینڈی نہ دُھپّاں نہ چھاواں

دُکھیاری جیہی جندڑی مینڈی ماڑیاں ماڑیاں باہواں

نہ کٙینڈا میں وَسّت وٙلّیبٙا نہ کوئی جھُگی ٹھٙلّی

نہ میں کُوندر ،نہ میں کانا،نہ وٙرگا ،نہ بَلّی

مینڈا سٙاوا بالنڑ بٙلے بن کے سُکّی پوہلی

میں کیہ دَسّاں مینڈے اندر کیہڑی گَڈ ھ رسولی

رَتے لال پھُلاں نی چادر آنڑ سیالے پاواں

نہ بھُلاں میں آپنا سائیں ،نہ کوئی ہور بنڑاواں

آپنڑی اکھیاں نے پانڑی میں آپے پی پی جیساں

نہ کوئی مینڈا آنڈ گوانڈی، نہ کینڈے نال رِیساں

( شاذیہ اکبر)