تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ عبداللہ بن عبدالمطلب تقریباً نصف صدی بعد دوبارہ سعودی عرب پہنچے تو 1979ء میں خانہ کعبہ کے موجودہ سنہری دروازے کی تیاری سے وابستہ ان کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ وہ اس وقت تھائی لینڈ سے آنے والے تین بڑھئیوں اور تین سناروں پر مشتمل ماہر ٹیم کے سربراہ اور عربی مترجم کی حیثیت سے مکہ مکرمہ پہنچے تھے۔ ان کی ٹیم نے خانہ کعبہ کے بابِ مقدس کی پیمائش کے بعد لکڑی کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ تیار کیا اور اسے نفیس سونے سے آراستہ کیا۔
تاریخی رپورٹس کے مطابق خانہ کعبہ کے اس مبارک دروازے پر تقریباً 280 کلوگرام خالص سونا استعمال کیا گیا، جبکہ اس پر قرآن کریم کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے 15 اسمائے حسنیٰ انتہائی خوبصورتی سے کندہ کیے گئے۔ نیا دروازہ اکتوبر 1979ء میں نصب کیا گیا اور اس موقع پر صحن میں زائرین طواف میں مصروف تھے۔
47 برس بعد خادمِ حرمین شریفین کے خصوصی مہمان پروگرام کے تحت مدینہ منورہ پہنچنے والے عبداللہ بن عبدالمطلب نے اس تاریخی اور ایمان افروز تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ صرف کتابوں میں درج نہیں ہوتی بلکہ ان لوگوں کی یادوں میں بھی زندہ رہتی ہے جو خود اس کا حصہ رہے ہوں۔