صحافی سجاد اظہر نے معروف بھارتی مورخ، سوانح نگار، صحافی اور دانشور راج موہن گاندھی سے اپنی گفتگو کا احوال بیان کرتے ہوئے ان کی علالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سجاد اظہر کے مطابق راج موہن گاندھی، مہاتما گاندھی کے پوتے اور بھارت کے معروف رہنما و ایڈیٹر سی راج گوپالاچاری کے نواسے ہیں۔ وہ تاریخ اور سیاست کے ممتاز اسکالر کی حیثیت سے ایک طویل علمی و صحافتی سفر رکھتے ہیں۔ راج موہن گاندھی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا-شمپین میں تاریخ اور سیاست کے استاد رہے اور بعد ازاں ریسرچ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

راج موہن گاندھی نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1990 سے 1992 تک بھارتی راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ 1990 میں انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں بھارتی وفد کی قیادت بھی کی۔

صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ وہ ہفت روزہ Himmat کے بانی رہے جبکہ The Indian Express کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔

علمی و تحقیقی خدمات

راج موہن گاندھی کی علمی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ انہوں نے برصغیر کی تاریخ، سیاست، شخصیات اور سماجی و سیاسی ارتقا پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں Patel: A Life، Rajaji: A Life، Gandhi: The Man, His People and the Empire، Ghaffar Khan: Nonviolent Badshah of the Pakhtuns، Punjab: A History from Aurangzeb to Mountbatten اور Modern South India شامل ہیں۔

ان کی تحریروں میں بالخصوص برصغیر کی تاریخ اور تقسیم کے پیچیدہ سیاسی و سماجی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی کتابیں جنوبی ایشیا کی تاریخ اور اہم سیاسی شخصیات کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔

کتاب کے فلیپ کی درخواست

سجاد اظہر نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ راج موہن گاندھی ان کی آنے والی کتاب ’’راول رویل‘‘ کے فلیپ کے لیے چند کلمات تحریر کریں۔ راج موہن گاندھی نے جواب دیا کہ وہ سجاد اظہر کے کام سے واقف ہیں اور اسے سراہتے ہیں، تاہم موجودہ صحت کی پیچیدگیوں کے باعث وہ ان دنوں لکھنے پڑھنے سے قاصر ہیں۔

سجاد اظہر نے راج موہن گاندھی کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ وہ موجودہ عہد کے نمایاں تاریخ دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

راج موہن گاندھی کی علالت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی علمی و تحقیقی خدمات آج بھی جنوبی ایشیا کی تاریخ، سیاست اور سماج کو سمجھنے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ سجاد اظہر نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔