اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سعودی عرب، ایران اور یمن کے معاملے پر حالیہ بیانات اور سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی صورتِ حال کو نئی بحث میں ڈال دیا ہے۔ ایران کی جانب سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش، سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کو ایرانی مدد فراہم کیے جانے کے الزامات اور پاکستان کے دفاعی مؤقف کے بعد علاقائی سلامتی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
11 اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی مدد کی پیشکش سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی عرب میں پاکستان اور ترکیہ سے متعلق حکام اور تکنیکی معاونت کی منتقلی کی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔
15 اکتوبر کو سعودی وزارت خارجہ کے نائب وزیر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہے اور سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ایران نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں ان کے اپنے مفادات اور جائزوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر عباس عراقچی نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع کا پائیدار حل ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس کے بعد پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو نے علاقائی صورتِ حال کو مزید اہمیت دے دی۔ انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ان سے منسوب مؤقف کے مطابق، اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور صورتِ حال فوجی تصادم کی طرف بڑھی تو مکہ اتحاد کا اجتماعی دفاعی نظام فعال ہو سکتا ہے۔ اس بیان کو سعودی عرب کے دفاع اور خطے میں ممکنہ فوجی تعاون کے تناظر میں دیکھا گیا۔
21 اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور حوثیوں نے ایران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال جواب نہیں دیا۔ یہ بیان پاکستانی عسکری ترجمان کے انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس سے سفارتی پیشکشوں اور دفاعی پیغامات کے درمیان تعلق کے حوالے سے بحث شروع ہوئی۔
اسی دوران مصر کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی سالمیت اور اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے مدد فراہم کرنے اور فوج بھیجنے سے متعلق اعلان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں ممکنہ دفاعی تعاون، ایران کے کردار اور یمن کے تنازع کے مستقبل پر سوالات مزید اہم ہو گئے۔
22 اکتوبر کو عباس عراقچی کے ایک اور بیان یا ردعمل کو بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس بیان کے اصل الفاظ اور مکمل سیاق و سباق کی تصدیق ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ سفارتی تنبیہ تھی، سیاسی ردعمل تھا یا کسی ممکنہ اقدام کا اشارہ۔
مجموعی طور پر حالیہ پیش رفت ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ایران کی ثالثی کی پیشکش خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہے، یا سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان اور دیگر ممالک کے ممکنہ تعاون نے تہران کے مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے؟ اس سوال کا جواب متعلقہ ممالک کے سرکاری بیانات، عملی اقدامات اور سفارتی رابطوں سے ہی سامنے آ سکے گا۔