تحریر: مبشر علی

کچھ شخصیات کا تعارف کرانے کے لیے الفاظ کے سہارے اور القابات کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ خود اپنی ذات میں ایک حوالہ، ایک تاریخ اور ایک عہد ہوتے ہیں۔ صحافت کے پرخار، کٹھن اور آزمائشوں سے بھرے راستوں پر جب بھی جراتِ رندانہ اور حرفِ حق کی بات ہوگی، تو جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک نام پوری آب و تاب کے ساتھ گونجے گا— اور وہ نام ہے طارق عثمانی۔ یہ صرف ایک نام نہیں، بلکہ چار دہائیوں پر محیط اس مسلسل جدوجہد کا استعارہ ہے جس نے اقتدار کے تھپیڑوں کا رخ بھی موڑا اور جدید میڈیا کے طوفان میں بھی اپنے قلم کی آبرو کو آنچ نہ آنے دی۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا سنہرا دور کن ناموں سے عبارت ہے؟ جب ملک میں نئے اخبارات کا سورج طلوع ہو رہا تھا، تو ایک ایسا عبقری صحافی بھی تھا جس کے بغیر کسی بڑے اخبار کا اجراء مکمل ہی نہیں سمجھا جاتا تھا ہ روزنامہ خبریں، روزنامہ پاکستان، روزنامہ الاخبار، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ جناح جیسے بڑے قومی اخبارات کے اجراء کی بانی ٹیموں کے روحِ رواں طارق عثمانی ہی تھے۔ پرنٹ میڈیا کے اس عروج کے دور میں کرائم رپورٹنگ کی دنیا میں ان کا طوطی بولتا تھا، وہ پاکستان کے صفِ اول کے کرائم اور انویسٹیگیٹو رپورٹر رہے اور انہوں نے جرائم کی اندھی گلیوں سے سچ کو کھینچ کر باہر نکالا۔
آج جو سلوگن بچے بچے کی زبان پر ہے اور جس نے پاکستانی صحافت کو ایک نئی سمت دی— یعنی روزنامہ خبریں کا وہ مقبولِ عام اور انقلابی نعرہ "جہاں ظلم، وہاں خبریں”— وہ کسی اور کا نہیں، بلکہ اسی نڈر صحافی طارق عثمانی کے ذہنِ رسا کا تخلیق کردہ شاہکار اور بانی تصور ہے۔ انہوں نے صرف سلوگن نہیں دیے بلکہ کچلے ہوئے طبقات کی حقیقی آواز بنے، جہاں روزنامہ الاخبار میں "پرسانِ حال” کالم کے ذریعے انہوں نے بے کسوں اور مظلوموں کی داد رسی کی، وہیں روزنامہ پاکستان میں "عوامی کٹہرا” لگا کر حاکموں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کی ایک شاندار اور بے باک روایت قائم کی۔ اسی طرح روزنامہ جناح میں "جناح انٹیلی جنس سیل” کے ذریعے انہوں نے جرائم کی داستانوں کو محض خبر نہیں رہنے دیا بلکہ ایک منفرد اور دستاویزی انداز بخشا۔ وہ اپنے طویل کیریئر میں 32,000 سے زائد تحقیقاتی اور ایکسکلوسو کرائم رپورٹس تیار کر چکے ہیں، جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں ہمیشہ زلزلے برپا کیے۔
عام طور پر وفاق کی صحافت اقتدار کے گلیاروں، محلاتی سازشوں اور بیوروکریسی کے گرد گھومتی ہے، لیکن طارق عثمانی نے اس روایت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا وہ دیہی پس منظر ہے جو ان کی روح میں رچا بسا ہے۔ ضلع گجرات کا خوبصورت اور تاریخی گاؤں "دھمہ ملکہ” ان کا آبائی مسکن ہے، اور ان کی اس سچائی اور شرافت کا سرچشمہ ان کا وہ پاکیزہ دینی گھرانہ ہے جس کے بڑے، یعنی ان کے والدِ گرامی حضرت صوفی محمد شریف، علاقے کی ایک نہایت معتبر، متقی اور نامور دینی و سماجی شخصیت تھے، جن کا پورا علاقہ بے حد احترام اور تعظیم کرتا تھا۔ صوفی صاحب اب اس دنیا فانی میں نہیں رہے، لیکن ان کی دی ہوئی اعلیٰ اخلاقی تربیت کا پرتو طارق عثمانی کی شخصیت میں صاف نظر آتا ہے۔ مٹی کی اسی محبت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور انہوں نے پاکستان کے پہلے زرعی اخبار روزنامہ "دیہات” اسلام آباد کی بنیاد رکھی۔ بطور بانی ایڈیٹر، سال 1997ء سے لے کر 2020ء تک— یعنی پورے 23 سال— انہوں نے کسانوں، ہاریوں اور کاشتکاروں کا مقدمہ لڑا اور روزنامہ "دیہات” کو ایک ایسی علمی دانش گاہ بنا دیا جس نے جدید ترین زرعی ریسرچ اور سائنسی طریقے کسانوں کی دہلیز تک پہنچائے۔ جب پورا میڈیا شہروں کی چکا چوند میں گم تھا، تب طارق عثمانی کا قلم کھیتوں کی مٹی، کسان کے پسینے اور جدید زرعی ترقی کی خوشبو پھیلا رہا تھا۔

طارق عثمانی صرف ایک قلم کار ہی نہیں، بلکہ کارکن صحافیوں کے حقوق کی توانا ترین اور معتبر ترین آواز بھی ہیں۔ جڑواں شہروں کی پوری صحافتی برادری نے ان کی تنظیمی صلاحیتوں، مخلصانہ قیادت اور طویل جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں متفقہ طور پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کی صدارت کے تاج سے نوازا۔ بطور صدر آر آئی یو جے، انہوں نے صحافیوں کے معاشی استحصال، جبری برطرفیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کا کردار ادا کیا ہے۔ جب بھی آزادیٔ اظہار رائے پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی یا کالے قوانین نافذ کرنے کی سازش ہوئی، طارق عثمانی نے ہمیشہ فرنٹ لائن پر آکر اس کا راستہ روکا، وہ صرف ایک عہدے دار نہیں، بلکہ صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے ایک ایسے سالار ہیں جن کی پکار پر جڑواں شہروں کے صحافی لبیک کہتے ہیں۔

اسی طرح نیشنل پریس کلب (NPC) اسلام آباد کی صحافتی سیاست میں طارق عثمانی کا کردار ایک "کنگ میکر” اور انقلابی مصلح کا رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں پریس کلب کے اندر برادری نے ان کی جرات اور مخلصانہ وژن کو وہ عزت اور احترام دیا جس نے پریس کلب کی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ پریس کلب پر برسوں سے براجمان ایک مخصوص مافیا، جس نے پریس کلب کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا تھا اور گندی سیاست کے ذریعے کارکن صحافیوں کا استحصال کر رہا تھا، طارق عثمانی نے اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ ڈیموکریٹس گروپ کے روحِ رواں کی حیثیت سے انہوں نے کمالِ دانش مندی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر تمام گروپس کو ایک لڑی میں پرو دیا اور اس ناممکن اتحاد کو ممکن بنا کر دکھایا۔ ان کی اسی سحر انگیز خطابت، اتحاد ساز حکمتِ عملی اور کارکن صحافیوں پر مشتمل طاقتور نیٹ ورک نے اس مافیا کو پریس کلب کی سیاست سے نہ صرف باہر پھینکا بلکہ انہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ آج نیشنل پریس کلب میں اگر کارکن صحافی خود کو محفوظ اور معتبر محسوس کرتا ہے، تو اس کے پیچھے طارق عثمانی کی سیاسی بصیرت اور انتھک محنت کارفرما ہے۔

طارق عثمانی کی خطابت اور قیادت کا ڈنکا اب صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی ایوانوں میں بھی بج رہا ہے۔ مئی 2026 میں، جب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں یونیسکو (UNESCO) کے ہیڈ کوارٹرز کے اندر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کی 100 سالہ تاریخی کانگریس سجی، تو انہوں نے وہاں دنیا بھر کے 300 سے زائد صحافتی مندوبین کے سامنے پاکستان کے میڈیا ورکرز کا مقدمہ نہایت دلیری اور مہارت سے لڑا۔ انہوں نے پیرس میں پاکستانی سفیر سے ملاقات کرکے عالمی میڈیا کے بدلتے ہوئے چیلنجز، صحافیوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ پر ایک جامع روڈ میپ پیش کیا، جسے عالمی سطح پر بھی بے حد سراہا گیا۔ آج جب صحافت کاروباری چمک دمک، ریٹنگ کی اندھی دوڑ اور سمجھوتوں کی نذر ہو کر اپنی سمت کھوتی نظر آتی ہے، طارق عثمانی جیسے نڈر، بے باک اور مخلص رہنماؤں کا وجود کسی غنیمت سے کم نہیں ہے۔ وہ کل بھی قلم کی حرمت کے پاسبان تھے، وہ آج بھی آزادیٔ صحافت کے علمبردار ہیں۔ تاریخ ہمیشہ گواہ رہے گی کہ پیرس کے ایوانوں سے لے کر گجرات کے گاؤں "دھمہ ملکہ” کے کھیتوں اور کھلیانوں تک، انہوں نے ہمیشہ سچ کا پرچم بلند رکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ طارق عثمانی نے صحافت سے نام نہیں پایا، بلکہ صحافت نے طارق عثمانی جیسے غیور اور باوقار سپوت سے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور وقار پایا ہے