اسلام آباد: صوبہ ہزارہ کے قیام کی تحریک گزشتہ 16 سال سے مسلسل جاری ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطوں اور حمایت کے حصول کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ 2019 میں قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے قیام سے متعلق بل پیش کیے جانے سے قبل ہونے والی مشاورت اور ملاقاتوں کی تصاویر بھی اس جدوجہد کی یادگار ہیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پرانی تصویر کے مطابق، چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی، رکن قومی اسمبلی سجاد اعوان، سپریم کونسل کے ارکان ریاض علی شاہ اور میاں عنایت الرحمان نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سابق وفاقی وزیر رانا تنویر الحسن سے ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور مجوزہ بل کی حمایت حاصل کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی۔ صوبہ ہزارہ تحریک سے وابستہ رہنماؤں کے مطابق، صوبے کے قیام کے لیے بل تیار کیا گیا تھا اور اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔
تحریک کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام ان کا دیرینہ مطالبہ ہے اور اس مقصد کے لیے جدوجہد کسی تعطل کے بغیر جاری رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق، صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کی حمایت اور قومی اسمبلی میں قانون سازی اس جدوجہد کے اہم مراحل ہیں۔
صوبہ ہزارہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبے کی منظوری تک سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تاہم، صوبے کے قیام کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل اور متعلقہ قانون سازی ضروری ہوگی۔