اسلام آباد: نائب امیرجماعت اسلامی سیاسی قومی امور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نےکہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد اور پنجاب میں انتخابات کی تاریخ اور شیڈول جاری کردیا ہے لیکن وفاقی اور پنجاب حکومت لاپروائی ، عوام کو شہری حقوق دینے سے گریزاں اور الیکشن کے انعقاد اور شیڈول کو غیر موثر بنانے کے دھندوں میں مبتلا ہیں۔ وفاق اور صوبے اپنی موجودہ ہیت ترکیبی میں نچلی سطح پر عوام کو مطمئن کرنےمیں ناکام ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کا وِردتو کیا جاتا ہے ،لیکن عمل نہیں کیا جاتا۔ 18ویں ترمیم کا اصل مقصد اختیارات کی مرکزیت اور صوبوں کا مقامی حکومتوں کے غاصبانہ غتربود کو ختم کرنا تھا، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حجم 57.5 فیصد ہو گیالیکن وفاق نے دار الحکومت اسلام آباد میں اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنے صوبوں میں بامعنی مقامی حکومتوں کی خود مختاری نہیں لا سکیں۔مسلم لیگ ، پی پی پی اور پی ٹی آئی نے مقامی حکومتوں کے نظام کے ایک ہی ناکارہ، فرسودہ اورغاصبانہ طرز حکمرانی کو قائم رکھا،ان پارٹیوں کو اقتدار میں لانے والی مقتدر قوتیں بھی عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں۔ اُن کا یہی جرم ریاست کے اداروں اور عوام میں بے اعتمادی، بے یقینی اور شکوک وشبہات کے خلیج وسیع کر رہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ مرکزی اورپنجاب حکومت اپنے جرائم کا ازالہ کریں اور بلدیاتی انتخابات کے راستے میں بدنیتی پر مبنی قانون سازی سے اجتناب کریں، آئین کے آرٹیکل 140-A کو پوری ذمہ داری سے نافذ کریں۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے سے عوام کو دہلیز پر سہولت ملے گی اور سیاسی استحکام کا راستہ کھلے گا ۔ حکمران نیک نیتی سے تہیہ کر لیں کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں تو عام انتخاب کا بااعتماد ہونے کا راستہ کھلے گا۔ انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کاقیام خوش آئندہے ، جماعت اسلامی انتخابی اصلاحات کاجامع ڈاکومنٹ تیارکر رہی ہے،الیکشن کمیشن کی انتخابی نظام کی اصلاحات کے لئے 63 سفارشات تمام سٹیک ہولڈز کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی نظام کی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ حکومت اوراپوزیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تقرریوں میں تاخیرکے غیر آئینی طرز عمل کا خاتمہ کریں۔ انتخابی اصلاحات میں اب تمام جماعتیں متناسب نمائندگی طرز انتخاب کو اختیار کرنے کے لئے اپنے اندر مثبت جمہوری جذبہ پیدا کریں، انتخابات کا غیر جانبدارانہ کروایا جاناناگزیر ہے، کراچی میں پی پی پی اور بلاول بھٹو زرداری کو جیالا میئرلانے کے لئے غیر جمہوری اور دھاندلی کا راستہ اختیار کرنا پڑا جو کراچی کے عوام کے لئے بڑا عذاب بن گیا ہے۔ کراچی میں عوام کی واحدچوائس جماعت اسلامی ہی ہے حکمران کب تک کراچی کے عوام کے جذبات کو کچلیں گے۔