اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک پارٹی کی سیاسی قیادت کو رسائی نہ ملنا تھی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران اپنے تمام مطالبات واپس لینے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی اور صرف ایک بنیادی مطالبہ رکھا تھا کہ پارٹی کی سیاسی قیادت کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔
ان کے مطابق حکومتی فریق کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان تک رسائی کا معاملہ طے پانے والے معاہدے میں شامل نہیں کیا جا سکتا اور اس وقت یہ قابلِ غور بھی نہیں ہے۔
’’کیا ہم اپنے لیڈر سے مشاورت نہیں کریں گے؟‘‘
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس صورتحال پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اہم معاملات پر نواز شریف یا شہباز شریف سے مشاورت کرتی ہے اور پیپلز پارٹی اپنی قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے مشاورت کے بعد فیصلے کرتی ہے تو پی ٹی آئی اپنے قائد عمران خان سے مشاورت کیوں نہیں کر سکتی؟
انہوں نے کہا کہ عمران خان پارٹی کے لیڈر ہیں اور اس وقت جیل میں ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کے لیے یہ بنیادی سوال ہے کہ پارٹی کی پالیسی طے کرتے وقت ان سے مشاورت اور ان کی ہدایات کیسے حاصل کی جائیں گی۔
اسد قیصر کے مطابق یہی معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ بنا اور ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔
’’دہشت گردی کو مذاکرات سے جوڑنا درست نہیں‘‘
اسد قیصر نے کہا کہ مذاکرات کے معاملے کو خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک واضح طریقہ کار تجویز کیا تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں مجوزہ نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔
72 گھنٹوں میں مشترکہ لائحہ عمل کی تجویز
اسد قیصر کے مطابق پی ٹی آئی کی تجویز میں کہا گیا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کریں اور باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں۔
ان کے مطابق مجوزہ لائحہ عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار رہنماؤں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ امن و امان سے متعلق بننے والی پالیسی کو عوام کا اعتماد حاصل ہو۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کا مقصد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مشاورت کا ایک مؤثر نظام قائم کرنا تھا۔