اسلام آباد: نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے 130 رکنی وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفد کا خیرمقدم کیا۔ وفد میں پاکستان اور دوست ممالک کے سینئر سول و عسکری افسران شامل تھے۔
وفد نے جنرل محمد نعیم اختر کی سربراہی میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسپیکر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو ملک کا ممتاز تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی یو کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کے اعلیٰ سول اور عسکری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے وفد کو پاکستان کے پارلیمانی نظام، قومی اسمبلی کی تشکیل، کام کے طریقہ کار اور قانون سازی کے عمل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے قائمہ کمیٹیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں قومی اہمیت کے حامل امور پر بحث کی جاتی ہے جبکہ پارلیمان ملک کے 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان بین الپارلیمانی یونین اور دیگر بین الاقوامی پارلیمانی تنظیموں کا فعال رکن ہے، جبکہ پاکستانی پارلیمان مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق اسپیکر کے صوابدیدی اختیارات فنانس کمیٹی کو منتقل کیے جاچکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی نے 6 ارب روپے کی بچت کی۔
اسپیکر نے قومی اسمبلی کے ماحول دوست اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں ایوان کی توانائی استعداد کا آڈٹ کرایا گیا، جبکہ 2015 میں پاکستان کی پارلیمان شمسی توانائی پر چلنے والی دنیا کی پہلی پارلیمان بنی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دولت مشترکہ کی 69ویں کانفرنس میں پاکستان کی پارلیمان کو پہلے گرین میس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی کے لیے پرعزم ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں تمام ارکان کو قومی اہمیت کے امور اور اپنے حلقوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور اسپیکر چیمبر کے دروازے تمام ارکان کے لیے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق اسپیکر کا منصب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے 2014 میں قومی اسمبلی میں ایس ڈی جیز سیکریٹریٹ قائم کیا گیا، جبکہ جینڈر مین اسٹریمینگ کمیٹی اور ویمن پارلیمانی کاکس بھی خواتین کے مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوانوں اور قانون سازوں کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار ایاز صادق نے بتایا کہ قومی اسمبلی طلبہ کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرتی ہے اور اس پروگرام میں بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انٹرن شپ کے دوران طلبہ کو پارلیمانی کارروائی اور قانون سازی کے عمل سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے افسران اور عملے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں، بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں جبکہ ارکان اسمبلی کی سہولت کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ڈرافٹنگ کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دنیا کو اس وقت مختلف معاشی اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کا منفی استعمال بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کا بھی ذکر کیا۔
جنرل محمد نعیم اختر نے وفد کو پارلیمانی نظام، قانون سازی کے عمل اور قومی اسمبلی کے ماحول دوست اقدامات سے آگاہ کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ وفد کے سربراہ اور شرکا نے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے پر سردار ایاز صادق کے پارلیمانی کردار کو سراہا۔