اسلام آباد: معروف کالم نگار ہارون الرشید نے پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت اور طرزِ زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں غیر معمولی اطمینان، تحمل اور بردباری کا حامل انسان قرار دیا ہے۔ اپنے کالم ’گستاخی‘ میں انہوں نے لکھا کہ پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت میں غصے، مایوسی، اداسی اور دوسروں کے لیے ناراضی جیسے جذبات نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتے۔

ہارون الرشید کے مطابق پروفیسر احمد رفیق اختر اختلافِ رائے اور بحث کا ہمیشہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ وہ دلیل کے بغیر بات نہیں کرتے اور اگر کوئی ان کی بات کی تصحیح کرے تو اسے قبول کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ ان کے بقول، طویل گفتگو اور خطاب کے دوران بھی پروفیسر صاحب کی آواز بلند نہیں ہوتی اور وہ مخالف رائے رکھنے والوں کے ساتھ بھی نرمی اور احترام سے پیش آتے ہیں۔

کالم نگار نے لکھا کہ پروفیسر احمد رفیق اختر تنقید کرنے والوں کو بھی طعنہ دینے، ان کا مذاق اڑانے یا ان کی تضحیک کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی بات واضح انداز میں بیان کرتے ہیں اور اپنے تجزیے میں غیر ضروری تبدیلی نہیں کرتے۔ ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان کی محفل سے ناراض ہو کر نہیں اٹھتے۔

ہارون الرشید کے مطابق پروفیسر احمد رفیق اختر کے پاس اعلیٰ سرکاری افسران، دانشوروں، جرنیلوں اور ججوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں، لیکن وہ ذاتی مفاد یا رعایت کے لیے کسی سے مطالبہ نہیں کرتے۔ البتہ کسی مظلوم شخص یا مشکلات میں گھرے ادارے کی مدد کے لیے متعلقہ افراد سے تعاون کی درخواست کر سکتے ہیں۔

کالم میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پروفیسر احمد رفیق اختر امیر اور غریب، تعلیم یافتہ اور ان پڑھ افراد کے ساتھ یکساں احترام کا برتاؤ کرتے ہیں۔ بچوں سے ان کی خصوصی محبت ہے اور وہ ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔ ہارون الرشید کے مطابق، مصروفیات کے باوجود وہ فلاحی اور مثبت سرگرمیوں کے لیے وقت نکالتے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کرتے ہیں۔

ہارون الرشید نے اپنی تحریر میں پروفیسر احمد رفیق اختر کی شخصیت کو صبر، نرم خوئی، علمی دیانت اور خدمتِ خلق کے حوالے سے ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنا اور مشکل حالات میں بھی دوسروں کے کام آنا ان کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔