راولپنڈی: سردار عتیق احمد خان نے سری نگر میں مسلم کانفرنس کے سابق صدر اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین، مرحوم پروفیسر عبدالغنی بھٹ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ممتاز کشمیری سیاسی رہنما، دانشور اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن سیاسی حل کے علمبردار قرار دیا ہے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کیے رکھا اور کئی دہائیوں تک مسلم کانفرنس سے وابستہ رہے۔

پروفیسر بھٹ نے 1980ء کی دہائی میں سری نگر میں مسلم کانفرنس کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں ان کے سیاسی سفر میں مسلم یونائیٹڈ فرنٹ اور پھر آل پارٹیز حریت کانفرنس میں اہم کردار شامل رہا۔ تاریخی ریکارڈ بھی انہیں مسلم کانفرنس کے ایک نمایاں رہنما اور بعد ازاں سیاسی مکالمے کے علمبردار کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

سردار عتیق احمد خان نے پروفیسر بھٹ کے ساتھ اپنی ذاتی ملاقاتوں اور روابط کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں پروفیسر بھٹ نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور کشمیری قیادت کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں میں اس وقت کے صدر مسلم کانفرنس اور سابق صدر و وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، مجاہدِ اوّل سردار محمد عبدالقیوم خان کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔

پروفیسر بھٹ کے دونوں جانب کی کشمیری قیادت کے ساتھ روابط اس امر کی عکاسی کرتے تھے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی روابط، مذاکرات اور مکالمے کو اہم سمجھتے تھے۔ جون 2005ء میں وہ حریت رہنماؤں کے وفد کے ہمراہ مظفرآباد بھی آئے، جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آزاد جموں و کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے ارکان سے خطاب کیا۔ اُس وقت کی اطلاعات کے مطابق وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل اور امن عمل میں کشمیریوں کی شرکت کے حامی تھے۔

سردار عتیق احمد خان نے مزید یاد کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی مرکزی مجلسِ عاملہ سے بھی خطاب کیا، جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر اور جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کی سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے مسلم کانفرنس کی قیادت کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر بٹ کے سیاسی مؤقف میں بعد کے دور میں مذاکرات اور سیاسی مکالمے کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی ان کی حمایت مختلف مواقع پر سامنے آتی رہی، اور معاصر اطلاعات کے مطابق وہ ان کشمیری رہنماؤں میں شامل تھے جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی روابط اور مذاکرات کے حامی رہے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا:

“پروفیسر عبدالغنی بٹ ایک دانشور، سیاسی مفکر اور مخلص کشمیری رہنما تھے۔ ان کی علمی و فکری خدمات، مسلم کانفرنس سے ان کی وابستگی اور سیاسی مکالمے کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں کشمیر کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔ ان کا انتقال کشمیری سیاسی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔”

سردار عتیق احمد خان نے مرحوم پروفیسر عبدالغنی بھٹ کے اہلِ خانہ، رفقا اور عقیدت مندوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، رفقا اور تمام عقیدت مندوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین