تحریر: نجم ولی خان
لیجئے جناب !
پی ٹی آئی فارم 47 کا مقدمہ بھی ہار گئی۔ مذاکرات پر آ گے وزیراعظم کا اختیار بھی تسلیم کر لیا اور اس وزیر داخلہ کی ٹی سی بھی کر لی جس پر 26 نومبر کی نام نہاد اور جھوٹی ہلاکتوں کا الزام نہیں لگاتے بلکہ نو مئی کو بھی اسی کی مدد سے سازش قرار دیتے ہیں۔
مذاکرات ناکام ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کی سیاسی فراست اور حکمت بھی ناکام ہو گئی۔ سپیکر چیمبر میں مذاکرات سے حکومت کے وجود اور اختیار کو انہوں نے آئینی اور قانونی تسلیم کر لیا۔ فتنہ الخوارج کی یہ B ٹیم ثابت ہو گئے۔
مسلم لیگ نون نے پی ٹی آئی کو ہی ایکسپوز نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کو بھی خیبرپختونخوا کے حوالے سے اقدامات پر آن بورڈ کر لیا ہے۔ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات کی ناکامی بلاول بھٹو کی کل کی تقریر کے مطابق گورنر راج کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
دیکھیں ! ابھی تو انہوں نے دو تین روز لانگ مارچ کو کے پی میں ہی ادھر ادھر گھمانا اور کارکنوں کو تھکانا ہے۔ جب وہ اٹک کے پُل پر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔