اسلام آباد: سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا ہے کہ چترال میں سڑکوں کا نام و نشان نہیں، علاقے کے لیے آنے والے ترقیاتی فنڈز مبینہ طور پر ہڑپ کر لیے جاتے ہیں، جبکہ عوام بنیادی سفری سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر محمد طلحہ محمود نے چترال میں سڑکوں کی خستہ حالی اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر ترقیاتی کام دکھائی نہیں دیتے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جیب سے رقم خرچ کرکے سڑک تعمیر کروائی، لیکن متعلقہ ٹھیکے دار نے اس منصوبے کی رقم بھی ہڑپ کر لی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ایوانِ بالا میں چترال کے عوام کو درپیش مسائل اجاگر کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، متعلقہ اداروں کی جواب دہی اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
چترال جیسے پہاڑی علاقے میں سڑکیں عوام کو صحت، تعلیم، تجارت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خراب سڑکوں کے باعث نہ صرف روزمرہ آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ مریضوں کو اسپتال پہنچانے، طلبہ کے تعلیمی اداروں تک آنے جانے اور مقامی کاروبار کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔