تحریر: عزیزالرحمن

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے گزشتہ روز ایک پروگرام کا انعقاد کیا، جس پر منتظمین شکریے کے مستحق ہیں۔ اس نوعیت کے پروگرام کے انعقاد کی اصل ذمہ داری تو ہماری اپنی یونیورسٹی، یعنی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ہے۔ امید ہے کہ کسی مناسب وقت پر یونیورسٹی ڈاکٹر غازی مرحوم کی شانِ شایان ایک کانفرنس کا انعقاد کرے گی، جس میں ان کی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی دعوتی اور انتظامی خدمات کو بھی مزید تحقیق و تنقیح کے ساتھ سامنے لایا جائے گا۔

غازی صاحب، جیسا کہ ہم انہیں کہا کرتے تھے، میرے باقاعدہ استاد رہے۔ ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء کی تکمیل کے فوراً بعد انہی کے مشورے سے میں نے ایل ایل ایم شریعہ میں داخلہ لیا تھا، جس کا کورس ورک مکمل کرتے ہی میں مزید تعلیم کے لیے اسٹاک ہوم یونیورسٹی چلا گیا۔ 1999 میں جب ہماری کلاس ایل ایل ایم کے کورس ورک کے مرحلے پر تھی تو غازی صاحب نے ایک مضمون پڑھانے کی ذمہ داری لی، مگر چونکہ اس وقت وہ مشرف حکومت میں بھی ذمہ داریاں سنبھال چکے تھے، اس لیے تدریس کے لیے بہت کم وقت دستیاب ہو سکا۔ تاہم، جو تھوڑا بہت استفادہ کرنے کا موقع ملا، اس سے ان کے بارے میں پہلے سے موجود اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ غازی صاحب انسائیکلوپیڈک معلومات سے لبریز شخصیت تھے۔ ان کے ہاں علم کی وسعت کے ساتھ ایک خاص قسم کا استغناء بھی تھا، جو ان کی شخصیت کے روحانی پہلو کا مظہر محسوس ہوتا تھا۔

میرے والد علیہ الرحمہ سے غازی صاحب کی شناسائی بہت پرانی تھی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب وہ غالباً اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس یا اس کے قرب و جوار میں مقیم تھے۔ درسِ قرآن کے سلسلے میں والد مرحوم سے ان کا تعلق بنا تھا اور اسی تعلق کی بنیاد پر غازی صاحب ہمیشہ میرے ساتھ بہت محبت و شفقت سے پیش آتے رہے۔

مجھے یاد ہے کہ 2004 یا 2005 کے لگ بھگ میں نے اسلامی یونیورسٹی میں لیکچررشپ چھوڑنے کا فیصلہ کر کے بغیر تنخواہ کے چھٹی لے لی تھی اور میرا ارادہ اکیڈمکس میں واپس آنے کا نہیں تھا۔ غازی صاحب نے حکماً واپس بلایا اور کہا کہ آپ کے کرنے کا کام یہی ہے۔ پھر جب سلیکشن بورڈ کے ذریعے میری اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تقرری ہوئی تو انہوں نے چھٹی منسوخ کر کے دوبارہ ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم بھی دیا۔

غازی صاحب بطور صدر جامعہ پورا ٹینیور مکمل کئے بغیر انتظامی ذمہ داری سے سبکدوش ہوئے تو انہی دنوں ہم یونیورسٹی میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ ہم تو خیر بہت جونیئر فیکلٹی ممبران تھے اور پس پردہ کارفرما سیاسی عوامل سے بھی بالکل نابلد تھے، مگر یہ احساس ضرور رہا کہ غازی صاحب کو انتظامی ذمہ داری سے علیحدہ کر کے ایک طرف کر دیا گیا تھا جس کے پیچھے ظاہر بات ہے یونیورسٹی کی اندرونی سیاست کے ساتھ ساتھ بیرونی عوامل بھی کارفرما تھے۔ اس دور کی تفصیلات اور جزئیات پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اس سے کچھ آبگینوں کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ بھی ہے، مگر تاریخ کے اس باب کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے دور صدارت اور اس سے قبل کی انتظامی ذمہ داریوں کے دوران جہاں بہت سے نمایاں کام ہوئے وہاں بعض اساتذہ کرام کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور نہ ہونے کے شکوے بھی سامنے آتے رہے۔ انتظامی ذمہ داریوں میں اس قسم کی باتیں ایک پیکج کا حصہ ہوتی ہیں جن سے بچنا ہمارے ہاں تقریبا ناممکن ہے۔ غازی صاحب کی ذاتی دیانت داری اور انٹگریٹی پر البتہ کبھی میں کسی کو سوال اٹھاتے نہیں دیکھا اور سنا۔ وہ مالی معاملات میں حد درجہ محتاط تھے اور بسا اوقات تو جزرسی کی حد تک کفایت شعاری کو اپناتے تھے۔ میں نے دفتروں میں ایک بار استعمال شدہ کاغذ کو ضائع کرنے کے بجائے دوسری طرف سے استعمال کرنے کا رجحان پہلی بار ان کے ہاں ہی دیکھا۔ فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء جب نئے کیمپس میں منتقل ہوئی تو فیکلٹی آفس میں فرنیچر کی فراہمی کے لئے ایڈوانس رقم دے کر کہا کہ سرکاری طریقے سے خریدا تو ناقص اور مہنگا فرنیچر ملے گا۔ پھر استاد محترم ڈاکٹر منیر صاحب کو راولپنڈی میں ایک دوکان کی نشاندہی کی کہ وہاں سے فرنیچر سستا اور مناسب ملے گا۔ آج بھی وہ فرنیچر ڈیپارٹمنٹ آف لاء کے چئیرمین کے دفتر میں موجود ہے۔

صدرِ جامعہ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے بعد غازی صاحب فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء میں بطور پروفیسر واپس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایوننگ کے پروگرام کا کوآرڈینیٹر تھا۔ غازی صاحب نے ازخود اپنے شوق سے آئینِ پاکستان کی تدریس کا آغاز کیا۔ وہ سہ پہر کے بعد تشریف لاتے اور اہتمام سے گاؤن پہن کر کلاس سے کچھ دیر پہلے دفتر میں بیٹھتے تو استاد کے رتبے کی شان ہی کچھ اور محسوس ہونے لگتی تھی۔ اس دوران مجھے تقریباً ہر ہفتے ان کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملتا۔ ان کی شخصیت میں رعب، کشش، علمی ہیبت اور وقار کا امتزاج جھلکتا تھا۔ اردو، عربی اور انگریزی اتنے سلیقے سے بولتے تھے کہ دل کرتا تھا کہ وہ بولتے جائیں اور ہم سنتے رہیں۔ بعض دیگر زبانوں سے بھی انہیں شغف تھا مگر ہم نے بارہا ان تین زبانوں میں ان کی قادر الکلامی کا مشاہدہ کیا۔ مصری اساتذہ کا طوطی جب اسلامی یونیورسٹی کے اکیڈمک اور انتظامی معاملات میں بولتا تھا اس وقت اپنا جوہر منوانا اور ان کے ساتھ شریک عمل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

پاکستان غازی صاحب کی شناخت، گفتگو اور تلقین کا ایک خاص اور نمایاں زاویہ تھا۔ پاکستان سے محبت اور اس کا اظہار وہ اپنے عمل اور باڈی لینگویج سے بار بار کرتے تھے۔ لباس پر پاکستان کے جھنڈے کا بیج اہتمام سے لگانا اور جب بھی طلباء سے گفتگو کا موقع ملے تو پاکستان کی اہمیت کو ان کے ذہنوں میں اجاگر کرنا، ہمارے استاد محترم کا ایک خاص وطیرہ تھا۔

اسلامی یونیورسٹی میں قانون اور شریعت کی تدریس کے تجربے سے وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ تدریس کے مروجہ طریقہ کار سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے خیال میں ابتدا میں اساتذہ کی کمی کے باعث قانون اور شریعت کے مختلف مضامین کو علیحدہ رکھا گیا تھا۔ مثلاً لاء آف کنٹریکٹ اور اسلامک لاء آف کنٹریکٹ کی دو الگ کلاسیں ہوتی تھیں۔ غازی صاحب کا خیال تھا کہ بتدریج ہمیں ایک ہی کلاس میں تقابلی انداز سے ان مضامین کی تدریس کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ تاہم، اس کے لیے انگریزی اور عربی زبانوں میں جس استعداد اور متعلقہ مضامین پر جس مہارت کی ضرورت تھی، اس کی دستیابی ایک بڑی رکاوٹ تھی اور یہ سوال خود غازی صاحب کے سامنے بھی موجود رہا۔

انہی دنوں انہوں نے قطر جانا شروع کیا تو واپسی پر بسا اوقات کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر فارسی اور اردو میں ہاتھ سے اشعار لکھ کر لاتے، جو وہ اپنے دفتری عملے کو ٹائپ کرنے کے لیے دیتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے وہ اشعار اب کہاں محفوظ ہیں۔

پھر مجھے پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک جانا پڑا اور غازی صاحب قطر تشریف لے گئے۔ دیارِ غیر ہی میں استادِ محترم کے انتقال کی خبر ملی، جس نے کئی دن تک رنجیدہ کیے رکھا۔

ایک بڑا شخص ہم چھوٹے لوگوں نے یونہی کھو دیا۔