اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے ملاقات کی، جس کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، خیبرپختونخوا کے حالات اور آئینی و جمہوری معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرے گی اور آئین کو معطل یا کمزور کرنے والے کسی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں بحال کرنے، ان کی صحت سے متعلق خدشات دور کرنے اور زیرِ حراست سیاسی رہنماؤں اور خواتین کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات میں تاخیر نہ کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی قبول کرلی اور کہا کہ ملک کو امن و امان، معاشی صورتحال، عوام کے حقِ حکمرانی اور جمہوری و آئینی عمل کی بحالی کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر علی خان نے جماعت اسلامی کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، جبکہ سیاسی مسائل کا حل باہمی مشاورت اور مذاکرات میں ہے۔
رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے ساتھ وفاقی تعاون، صوبائی خودمختاری، این ایف سی سے متعلق معاملات اور صوبے کو درپیش معاشی و امن و امان کے مسائل پر بھی گفتگو کی اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔