صحافی سجاد اظہر نے سابق چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے ہونے والی ایک یادگار ملاقات کی روداد بیان کرتے ہوئے ان کی کتابوں سے غیر معمولی محبت اور فکری وسعت کو اجاگر کیا ہے۔

سلیم بیگ کی ذاتی لائبریری میں تقریباً 25 ہزار کتابیں موجود ہیں۔ وہ ہر ماہ ایک خطیر رقم نئی کتابوں کی خریداری پر صرف کرتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں دولت کا اظہار عموماً شاندار گھروں، مہنگی گاڑیوں اور برانڈڈ لباس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، کتابوں پر سرمایہ خرچ کرنے والی شخصیات یقیناً کم یاب ہیں۔

ان کی لائبریری میں داخل ہوتے ہی ایک الگ دنیا کا احساس ہوتا ہے۔ کتابوں کے اس وسیع ذخیرے کے درمیان سجاد اظہر کی سلیم بیگ کے ساتھ تاریخ، صحافت، ادب، کتابوں اور معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک بامعنی اور خوشگوار نشست ہوئی۔

سلیم بیگ کا کہنا تھا کہ اگر کسی معاشرے میں سوجھ بوجھ اور فکری شعور کو چند ذہنوں تک محدود کر دیا جائے تو ریاست بتدریج غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ ریاست کو متعلقہ اور مؤثر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فکر و نظر کو عام کیا جائے۔ ان کے نزدیک مطالعہ، علم اور فکری مکالمہ ایک باشعور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔

اس ملاقات کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ سلیم بیگ گفتگو کے دوران مختلف موضوعات پر کتابوں کے حوالے دیتے رہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی لائبریری محض آرائش یا کتابیں جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے مسلسل مطالعے اور فکری سفر کا حصہ ہے۔ مختلف کتابوں کو موقع اور موضوع کی مناسبت سے یاد رکھنا ان کے وسیع مطالعے اور مضبوط حافظے کی عکاسی کرتا ہے۔

سجاد اظہر کے مطابق پاکستان میں ایسے بیوروکریٹس بہت کم ہیں جن کی فکری اور علمی سطح اس مقام تک پہنچی ہو کہ ان کے ساتھ گفتگو کے دوران ہر لمحہ کچھ نیا سیکھنے کو ملے۔ سلیم بیگ بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ علم، مطالعے اور فکری مباحث سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔

سلیم بیگ تقریباً سات سال تک چیئرمین پیمرا کے منصب پر فائز رہے اور اس عہدے پر رہنے والے طویل ترین مدت کے چیئرمین ہونے کا اعزاز بھی ان کے پاس ہے۔

یہ ملاقات محض دو افراد کے درمیان ایک نشست نہیں تھی بلکہ کتاب، علم، تاریخ اور ریاست و معاشرے کے تعلق پر ایک فکری مکالمہ تھی۔ سجاد اظہر کے بقول بعض ملاقاتیں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے ساتھ نئے خیالات، نئی بصیرتیں اور دیرپا یادیں لے کر آتی ہیں۔ سلیم بیگ کے ساتھ ہونے والی یہ نشست بھی ایسی ہی ایک یادگار ملاقات تھی۔