اسلام آباد: معروف کامیڈین اور اداکار نسیم وکی نے اپنے بیٹے کی بیرونِ ملک تعلیم اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیاب باپ کا بیٹا ہونے کے باوجود اس نے اپنی الگ شناخت بنانے کے لیے محنت کا راستہ اختیار کیا۔
نسیم وکی کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھیجا، جہاں اس نے تعلیم کے ساتھ مختلف ملازمتیں بھی کیں اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کی۔
انہوں نے بتایا کہ بیٹے نے بیرونِ ملک قیام کے دوران برتن دھونے سمیت مختلف کام کیے، جبکہ کام کے دوران کئی مرتبہ اس کا بازو بھی جل گیا۔
نسیم وکی کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے ان کے بیٹے نے مالی مشکلات کا بھی سامنا کیا، تاہم جب کبھی گھر سے رقم بھیجنا ممکن نہ ہوتا تو اس نے اصرار کرنے کے بجائے اپنی محنت جاری رکھی۔
معروف کامیڈین نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کی کامیابی سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تو لوگوں نے اس بات کو خصوصی طور پر سراہا کہ نوجوان نے اپنی شناخت بنانے کے لیے والد کے نام کا سہارا لینے کے بجائے اپنی محنت اور صلاحیت پر بھروسا کیا۔
نسیم وکی کے مطابق ایک والد کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا بچہ خاندانی نام کے بجائے اپنی محنت اور قابلیت سے کامیابی حاصل کرے۔