بڑے لوگوں کے دنیا سے رخصت ہونے کا دکھ سب محسوس کرتے ہیں اور اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’یہ خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا‘‘، لیکن بہت کم لوگ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ایک انسان بڑا کیسے بنتا ہے، کون سی تربیت، قربانیاں اور اصول اسے تاریخ میں نمایاں مقام عطا کرتے ہیں۔
حافظ سلمان بٹ کی زندگی بھی ایسی ہی جدوجہد، تربیت اور نظریاتی وابستگی کی داستان بیان کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی بہت چاہتوں کی اولاد تھے۔ ان کی والدہ نے بیٹے کی دعا مانگتے ہوئے حضرت مریمؑ کی والدہ کی سنت کی پیروی میں منت مانی کہ اگر بیٹا عطا ہوا تو اسے اللہ کی راہ میں وقف کر دیں گی۔
اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا کیا تو والدین نے اپنی منت کو نبھانے کا عزم کیا۔ چنانچہ بچے کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی خدمت میں لے جایا گیا اور والد نے یہ کہتے ہوئے انہیں پیش کیا کہ آپ گواہ رہیں، میں نے اسے اللہ کے راستے کے لیے وقف کر دیا ہے۔
والدین نے حافظ سلمان بٹ کی تعلیم و تربیت کا بھرپور اہتمام کیا، تاہم انہیں فکرِ معاش سے آزاد رکھا تاکہ وہ اپنی زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کر سکیں۔ شادی کے بعد بھی خاندان کی کفالت کا اہتمام کیا گیا تاکہ وہ معاشی الجھنوں سے بے نیاز ہوکر اپنی دینی اور نظریاتی جدوجہد جاری رکھ سکیں۔
ان کی شخصیت میں خود اعتمادی، بے خوفی اور اصول پسندی نمایاں تھی۔ ایک مرتبہ کالج کے ایک دوست نے ازراہِ تفنن کہا کہ اگر وہ جمعیت میں نہ ہوتے تو شاید اپنے علاقے کے بڑے بدمعاش ہوتے۔ ان کے والد کو یہ جملہ پسند نہ آیا اور انہوں نے جواب دیا کہ جس شخص کو کبھی ایک لقمہ بھی حرام کا نہیں کھلایا گیا اور جس کی رگوں میں پاکیزہ خون ہے، وہ بدمعاش کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حافظ سلمان بٹ کے والد پولیس میں ایس پی کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد بھی ان کے بھائیوں نے اس روایت کو برقرار رکھا اور حافظ سلمان بٹ کو معاشی ذمہ داریوں کے بوجھ میں ڈالنے کے بجائے دینی جدوجہد کے لیے یکسو رہنے کا موقع دیا۔
حافظ سلمان بٹ نے اپنی نظریاتی جدوجہد کے دوران کئی مرتبہ جیلیں کاٹیں اور سختیاں برداشت کیں۔ ایک مرتبہ جیلر انہیں والدین سے ملوانے کے لیے مبینہ طور پر چوری چھپے گھر لے آیا۔ جب ان کی والدہ کو اطلاع ملی تو انہوں نے پہلے پوچھا کہ کیا بیٹے کو رہائی مل گئی ہے۔ جب معلوم ہوا کہ اسے صرف خفیہ طور پر ملاقات کے لیے لایا گیا ہے تو والدہ نے ملاقات سے انکار کردیا اور کہا کہ قانون کی خلاف ورزی ہمیں زیب نہیں دیتی، جب تم باقاعدہ رہا ہوکر آؤ گے تو میں تمہارا استقبال کروں گی۔
یہ واقعہ اس تربیت اور اصول پسندی کی عکاسی کرتا ہے جس نے حافظ سلمان بٹ کی شخصیت کو تشکیل دیا۔ والدین نے جس مقصد کے لیے انہیں وقف کیا تھا، ان کی زندگی اسی مقصد کے گرد گھومتی رہی۔
وقت گزرا اور جب اللہ تعالیٰ نے حافظ سلمان بٹ کو پوتے کی نعمت عطا کی تو انہوں نے نومولود کو جماعت اسلامی کے اُس وقت کے امیر سراج الحق کی گود میں دیتے ہوئے کہا کہ یہ میرے اسلاف کی سنت ہے۔ میرے والد نے مجھے اللہ کی راہ کے لیے وقف کیا تھا اور میں اپنی دوسری نسل کو بھی اسی راہ کے لیے وقف کر رہا ہوں، آپ اس کے گواہ رہیں۔
حافظ سلمان بٹ کی زندگی کے یہ واقعات محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ والدین کی تربیت، اصول پسندی، قربانی اور مقصد سے وابستگی کی ایک ایسی روایت ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی شخصیت کو محض معروف نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بناتے ہیں۔