اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حیرت اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو جلد بازی اور مذاکراتی حکمت عملی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ بیک ڈور رابطوں کے ذریعے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان معاملات طے پانے کے قریب پہنچ چکے تھے اور پی ٹی آئی بھی اپنے بعض بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات کو حتمی شکل دینے اور پیش رفت جاری رکھنے کا اختیار دے دیا تھا۔ ان کے مطابق رات کے وقت پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ کانفرنس کال بھی ہوئی، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے صبح حکومت کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز طے پانے والے نکات وفاقی حکومت کے مطالبات اور توقعات کے مطابق تھے اور مذاکرات میں ڈیڈلاک بھی ختم ہو چکا تھا۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے اچانک اور فریقین کو اعتماد میں لیے بغیر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ غیر متوقع ہے۔

انہوں نے حکومتی فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مثبت پیش رفت کے باوجود اس اقدام نے سیاسی اور جمہوری روایات کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔