اسلام آباد (فاروق اقدس): پاکستان کی سیاست میں نظریاتی وابستگیوں، سیاسی وفاداریوں اور وقت کے ساتھ بدلتے تعلقات کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سابق وفاقی وزیر پرویز رشید کی زندگی سے جڑے بعض واقعات بھی اسی تناظر میں دلچسپی کا باعث ہیں، جن کا ذکر سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے۔

اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں قیام پذیر پرویز رشید کی جانب سے رؤف کلاسرا کو کافی کی دعوت دیے جانے کے دوران ہونے والی گفتگو میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگیوں اور ملاقاتوں کے واقعات زیرِ بحث آئے۔

رؤف کلاسرا کے بیان کردہ واقعے کے مطابق، پرویز رشید نے بتایا کہ انہوں نے کافی بنانے کا سلیقہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیکھا تھا۔ ان کے بقول، جب بھٹو صاحب نے اپنی سیاسی جماعت قائم کرلی تھی تو ایک موقع پر انہوں نے انہیں فرانسیسی سفیر کی آمد کے موقع پر بلایا اور بلیک کافی بنا کر پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ کافی پیش کرنے کے بعد بھٹو صاحب نے انہیں سفیر کو گاڑی تک رخصت کرنے کے لیے کہا۔ بعدازاں بھٹو صاحب نے ان کے کام کی تعریف کی اور کافی بنانے کے مخصوص طریقے سے بھی آگاہ کیا۔ پرویز رشید کے مطابق، وہ آج تک اسی انداز میں کافی بناتے اور چمچہ ہلاتے ہیں۔

پرویز رشید کا شمار ماضی میں ترقی پسند اور بائیں بازو کے طالب علم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ 1980 کی دہائی میں گورنمنٹ گورڈن کالج راولپنڈی میں طلبہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے راجہ انور، شیخ رشید اور پرویز رشید جیسی شخصیات خاص توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ اس دور میں پرویز رشید کی شناخت ایک ترقی پسند طالب علم رہنما کے طور پر تھی۔

تاہم بعد کے برسوں میں ان کی سیاسی وابستگی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ مضبوط ہوگئی۔ رؤف کلاسرا کے کالم میں نواز شریف کے ساتھ ان کی قربت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔

واقعے کے مطابق، وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر پاکستان آنے والے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی ایک تقریب میں پرویز رشید بھی قطار میں کھڑے تھے۔ نواز شریف ان کے قریب آئے تو رک گئے، ان کے کوٹ کے بٹن بند کیے اور مفلر درست کرکے کوٹ کے اندر کردیا۔ تقریب کے بعد نواز شریف نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ وہ ناراض تو نہیں ہوئے، کیونکہ وہ اس انداز میں کھڑے تھے جیسے راجہ بازار میں گھومنے کے لیے آئے ہوں۔

رؤف کلاسرا کے بیان کردہ ایک اور دلچسپ پہلو کے مطابق، پرویز رشید نے بتایا کہ نواز شریف جب کسی شخص سے ملتے ہیں تو ان کی پہلی نظر اس کے جوتوں پر پڑتی ہے کہ وہ صاف اور چمک دار ہیں یا نہیں۔

تحریر میں سیاسی وابستگیوں کی تبدیلی کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق کے دور کا ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے میں انتقال کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کے سفرِ آخرت کی براہِ راست کمنٹری معروف کمپیئر اظہر لودھی نے کی تھی۔ فاروق اقدس کی تحریر میں ایک ایسے شخص کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو اس وقت ضیاء الحق کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کمنٹری میں شریک تھا، لیکن بعد کے برسوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا سرگرم حامی بن گیا اور اس جماعت کے ادوارِ حکومت میں اہم سیاسی و سفارتی عہدوں تک پہنچا۔

تاہم اس آخری واقعے میں متعلقہ شخص کا نام واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی شناخت اور سیاسی و سفارتی عہدوں کی تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔

یہ واقعات پاکستان کی سیاست کے اس پہلو کو نمایاں کرتے ہیں جہاں نظریاتی وابستگیوں، شخصی تعلقات اور سیاسی وفاداریوں کے درمیان وقت کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پرویز رشید کے حوالے سے بیان کردہ واقعات میں بھٹو صاحب سے سیکھے گئے کافی بنانے کے سلیقے سے لے کر نواز شریف کے ساتھ ذاتی قربت تک کے پہلو شامل ہیں، جو پاکستانی سیاست کی شخصی اور تاریخی جہتوں کو سمجھنے کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں۔