لاہور: غربت، محنت اور عزم کی ایک ایسی داستان جس میں ایک غریب کسان کا بیٹا دودھ فروخت کرکے اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرتا ہے اور زندگی کی جدوجہد کرتے ہوئے پاکستان کے نگران وزیراعظم کے منصب تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ داستان ملک معراج خالد کی ہے، جن کی زندگی آج بھی سادگی، خودداری اور عوامی خدمت کی ایک نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔

ملک معراج خالد 1916ء میں لاہور کے قریب برکی کے علاقے ڈیرہ چاہل میں ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے۔ محدود وسائل اور دشوار حالات کے باوجود انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کا عزم برقرار رکھا۔ ان کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے بیان کیے جانے والے واقعات کے مطابق، گاؤں میں اسکول نہ ہونے کے باعث انہیں تعلیم کے لیے پیدل دوسرے علاقے جانا پڑتا تھا۔

مڈل کی تعلیم کے بعد انہوں نے لاہور کے سینٹرل ماڈل اسکول میں داخلہ لیا۔ شہر میں رہ کر تعلیم جاری رکھنا آسان نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے دودھ فروخت کرنا شروع کر دیا۔ صبح سویرے دودھ پہنچانے کے بعد وہ مسجد میں کپڑے تبدیل کرتے اور اسکول روانہ ہو جاتے تھے۔

ان کی زندگی سے منسوب واقعات میں غربت کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کے جوتے کپڑے میں لپیٹ کر رکھتے تھے تاکہ دودھ کے برتنوں کے ساتھ چلتے ہوئے خراب نہ ہوں۔ بعض اوقات اسکول میں دوسرے بچوں کو کھانا کھاتے دیکھ کر وہ پانی پی کر گزارا کرتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب باپ اور بیٹا باری باری جوتوں کا ایک ہی جوڑا استعمال کرتے تھے۔

مشکلات کے باوجود ملک معراج خالد نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے سینٹرل ماڈل اسکول سے میٹرک، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے بی اے آنرز اور بعد ازاں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت کے شعبے میں قدم رکھا اور رفتہ رفتہ سماجی خدمت اور سیاست سے وابستہ ہو گئے۔

سیاست میں قدم اور اہم حکومتی ذمہ داریاں

ملک معراج خالد نے 1965ء میں آزاد حیثیت سے مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی۔ بعد میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور 1970ء کے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق، انہوں نے 89 ہزار 660 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مخالف نواب ذوالفقار قزلباش کو 29 ہزار 560 ووٹ ملے۔

دسمبر 1971ء میں انہیں وفاقی کابینہ میں خوراک، زراعت اور پسماندہ علاقوں سے متعلق ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ 2 مئی 1972ء کو وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے اور نومبر 1973ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ بعد ازاں انہوں نے وفاقی وزارتوں اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

نومبر 1996ء میں ملک معراج خالد کو پاکستان کا نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ وہ فروری 1997ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یوں دودھ فروخت کرکے تعلیمی اخراجات پورے کرنے والے ایک محنت کش نوجوان نے ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی منصب تک رسائی حاصل کی۔

اقتدار میں بھی سادگی برقرار رہی

ملک معراج خالد کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی سادگی تھی۔ بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ان کے طرزِ زندگی میں شاہانہ انداز نمایاں نہیں ہوا۔ ان کی اہلیہ اسکول ٹیچر تھیں اور ان سے منسوب ایک واقعے کے مطابق، انہوں نے ملازمت چھوڑنے کے بجائے اپنی مستقل پیشہ ورانہ ذمہ داری کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک حکومتی عہدہ عارضی جبکہ ملازمت مستقل تھی۔

ان کی سادگی کا ایک مشہور واقعہ گورنمنٹ کالج لاہور کی تقریب سے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، ڈرائیور کی عدم دستیابی کے باعث انہوں نے تقریب میں تاخیر کرنے کے بجائے ریگل چوک سے رکشہ لیا اور کالج پہنچ گئے۔ یہ واقعہ ان کی سادہ طبیعت اور وقت کی پابندی کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، نگران وزیراعظم بننے کے باوجود وہ لاہور کے لکشمی مینشن میں واقع اپنے تین کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ ان کی رہائش اہلِ علم، دوستوں اور دانش وروں کی ملاقاتوں کا مرکز بھی رہی۔

تعلیم اور سماجی خدمت سے وابستگی

ملک معراج خالد کے نزدیک تعلیم محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم وسیلہ بھی تھی۔ انہوں نے کم وسائل رکھنے والے بچوں کی تعلیم کے لیے اداروں کی سرپرستی کی اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

ان کی زندگی میں سماجی خدمت کو نمایاں مقام حاصل رہا۔ انہوں نے ایک بچے کو گود لے کر اس کی پرورش بھی کی۔ ان کے طرزِ زندگی اور سماجی سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اقتدار اور شہرت کے بجائے تعلیم، انسانی ہمدردی اور سادگی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔

ملک معراج خالد 13 جون 2003ء کو انتقال کر گئے، تاہم ان کی زندگی کی جدوجہد آج بھی لوگوں کے لیے ایک مثال ہے۔

ملک معراج خالد کی داستان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ غربت کسی انسان کی منزل کا حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ محنت، تعلیم، خودداری اور مستقل مزاجی کے ذریعے مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی زندگی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ انسان بلند ترین عہدے تک پہنچنے کے باوجود اپنی سادگی، اصولوں اور عام لوگوں سے وابستگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔