لاہور: برصغیر کے نامور کلاسیکی گلوکار استاد بڑے غلام علی خان کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی بخاری کے ساتھ اسٹوڈیو میں پیش آنے والی تلخی کے بعد انہوں نے پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ واقعہ محمد اعظم خان اور شاہد لطیف کی گفتگو میں بیان کیا گیا، جسے ویب سائٹ ’’ہم سب‘‘ نے شائع کیا۔

گفتگو کے دوران بیان کیا گیا کہ استاد بڑے غلام علی خان نہایت باکمال فنکار ہونے کے ساتھ سادہ مزاج اور درویش صفت انسان بھی تھے۔ ایک روز ریڈیو پاکستان میں پروگرام کرنے کے بعد انہیں اسٹوڈیو میں اونگھ آگئی اور وہیں لیٹ گئے۔ اسی دوران ذوالفقار علی بخاری اسٹوڈیو میں آگئے اور انہیں وہاں سوتے دیکھ کر ناراضی کا اظہار کیا۔

روایت کے مطابق بخاری صاحب نے سوال کیا کہ کیا یہ سونے کی جگہ ہے؟ اس پر استاد بڑے غلام علی خان نے دھیمے لہجے میں جواب دیا کہ ان سے غلطی ہوسکتی ہے کہ انہیں نیند آگئی اور وہ اسٹوڈیو میں لیٹ گئے، لیکن یہ ان کی کام کرنے کی جگہ ہے اور اس معمولی بات پر ان کی بے عزتی نہیں کی جانی چاہیے۔

بیان کے مطابق اس جواب پر بخاری صاحب مزید برہم ہوگئے اور انہوں نے دوبارہ کہا کہ ریڈیو سونے کی جگہ نہیں ہے۔ اس صورت حال پر استاد بڑے غلام علی خان شدید ناراض ہوئے اور انہوں نے آئندہ ریڈیو پاکستان میں پروگرام نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پاکستان میں بھی نہیں رہیں گے۔

گفتگو میں اس واقعے کو استاد بڑے غلام علی خان کے بھارت منتقل ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ بیان کرنے والے کے مطابق فنکار حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور ان کی عزت و احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ استاد بڑے غلام علی خان کے بھارت جانے کے بعد وہاں انہیں بے حد پذیرائی ملی اور پاکستان ایک عظیم فنکار سے محروم ہوگیا۔

استاد بڑے غلام علی خان برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے ممتاز ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی گائیکی نے موسیقی کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ تاہم، ریڈیو پاکستان میں پیش آنے والے اس واقعے اور ان کی بھارت منتقلی کے درمیان تعلق سے متعلق تفصیلات کو ایک بیان کردہ روایت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔