اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سیاسی قیدی نہیں بلکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا فیصلہ حکومت یا پارلیمان نہیں بلکہ عدالتیں قانون کے مطابق کر سکتی ہیں۔
احسن اقبال نے 14 اکتوبر 2026 کو قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان کو واپس کی گئی 190 ملین پاؤنڈ کی رقم قومی خزانے میں جمع ہونے کے بجائے بحریہ ٹاؤن کے جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئی۔ ان کے مطابق، اس معاملے میں عمران خان کی حکومت کے کردار پر جوابدہی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ وائٹ کالر کرائم سے متعلق ہے اور کسی اسمبلی یا حکومت کے ذریعے انہیں عدالتی سزا سے بری نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اپنے قائد کی رہائی کے لیے حکومت سے مطالبہ کرنے کے بجائے ان سے 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے پر جواب طلب کرنا چاہیے۔
احسن اقبال کے مطابق، اگر کسی شخص کو عدالتی کارروائی کے نتیجے میں سزا ہوئی ہو تو اس کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پارلیمان عدالتی فیصلے کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتیں اور اس معاملے میں متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو 14 سال جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عمران خان اور پی ٹی آئی اس مقدمے اور اس سے متعلق کارروائی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مقدمے میں قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ متعلقہ عدالتی فورمز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔