اسلام آباد: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور نے آب پارہ اخبار مارکیٹ اسلام آباد کو سیل کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ایف یو جے دستور کے صدر محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ، جبکہ آر آئی یو جے دستور کے صدر رانا کوثر علی اور جنرل سیکریٹری نوید میو نے اپنے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ اخبار مارکیٹ کو فوری طور پر ڈی سیل کرکے دوبارہ اخبار فروش یونین کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اخبار مارکیٹ کو سیل کرنا محنت کش اخبار فروشوں کو ان کے جائز روزگار سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے حکومت اور میڈیا کے درمیان فاصلے بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ اخبار فروشوں اور حکومتی اداروں کے درمیان نئی محاذ آرائی بھی جنم لے سکتی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پی ایف یو جے دستور، کل پاکستان اخبار فروش یونین کے سیکریٹری جنرل ٹکا خان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی کال پر آب پارہ اخبار مارکیٹ کھلوانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ بعض عناصر میڈیا کے ساتھ غیر دوستانہ رویہ اختیار کرکے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اخبار فروشوں کے مسائل کو تصادم کے بجائے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
بیان کے مطابق، 1982 میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات راجہ محمد ظفر الحق نے یہ مارکیٹ اخبار فروش یونین کو الاٹ کروائی تھی۔ رہنماؤں نے چیئرمین سی ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ کو فوری ڈی سیل کیا جائے اور اخبار فروش یونین کے ساتھ موجود تنازعات خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں۔
پی ایف یو جے دستور اور آر آئی یو جے دستور نے واضح کیا کہ اخبار فروشوں کے معاشی حقوق کا تحفظ اور اخبارات کی تقسیم کا عمل بحال رکھنا ضروری ہے، تاکہ محنت کش طبقے کا روزگار متاثر نہ ہو اور میڈیا کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔