تحریر: سردار تنویر الیاس خان
سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر
نامزد صدرِ ریاست ڈاکٹر سردار نجیب نقی خان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسی طرح نو منتخب وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سید بیرسٹر افتخار گیلانی، چوہدری طارق فاروق، سپیکر اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر اسمبلی احمد رضا قادری کو بھی تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص صدرِ ریاست کے منصب کے لیے ڈاکٹر سردار نجیب نقی خان کی نامزدگی موجودہ حالات کے تناظر میں ایک اہم فیصلہ ہے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، نے سدھنوتی کے ایک قابلِ احترام سپوت کو اس ذمہ داری کے لیے نامزد کیا ہے۔ پونچھ، بالخصوص سدھنوتی اور راولاکوٹ میں موجودہ سماجی و سیاسی حالات غیر معمولی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے ماحول میں صدرِ ریاست کا منصب محض ایک آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ سیاسی و سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر سردار نجیب نقی خان ایک معزز سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد محترم ریٹائرڈ کرنل نقی خان نے عسکری خدمات کے بعد آزادکشمیر کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور قانون ساز اسمبلی و حکومت میں رہتے ہوئے سدھنوتی سمیت ریاست کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی ناگہانی وفات کے بعد ڈاکٹر سردار نجیب نقی خان نے عملی سیاست میں قدم رکھا، متعدد مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور وزارت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ ان کی شخصیت میں وضع داری، تدبر، فہم و فراست اور سیاسی بصیرت نمایاں ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ پونچھ کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات کو سمجھتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک نقطۂ اتفاق پر لانے اور حالات کی بہتری میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ پونچھ ڈویژن کے بعض علاقوں میں انتخابات نہ ہو سکنے کے تناظر میں بھی ان کی نامزدگی اس خطے کی سیاسی دلجوئی کا باعث بن سکتی ہے۔
نو منتخب وزیراعظم سید بیرسٹر افتخار گیلانی کو بھی میں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ، قانون دان اور روایتی سیاسی اقدار رکھنے والے شخص ہیں۔ ان کی شخصیت میں تحمل، بردباری اور وضع داری نمایاں ہے۔ ان کے خاندانی پس منظر اور سادات سے تعلق کی وجہ سے بھی انہیں ایک خاص سماجی احترام حاصل ہے۔ میں ان کی تعلیم، قابلیت یا فیصلہ سازی پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا، تاہم آج کے موقع پر ایک تاریخی اور سیاسی سوال ضرور اٹھانا چاہتا ہوں، کیونکہ سیاست میں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن فیصلے اور ان کے اثرات تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
آزادکشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی مواقع گزرے ہیں جب تجربہ کار اور سینئر قیادت کو نظر انداز کرکے نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے افراد کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے، مگر اس طرزِ سیاست نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں میں تجربہ، قربانی، وفاداری اور طویل پارلیمانی سفر کی کوئی مستقل قدر باقی رہ گئی ہے؟
1977 کے مارشل لا کے دور کا حوالہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، جو آزادکشمیر کی سیاست میں ایک تاریخی مقام رکھتے تھے، اس دور میں اقتدار سے الگ کیے گئے۔ بعد ازاں آزادکشمیر میں چیف ایگزیکٹو کا نظام قائم رہا اور جنرل ضیاء الحق کے طویل مارشل لا کے دوران انہوں نے ملک کے اندر رہ کر مشکلات کا سامنا کیا۔ غازی ملت کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی عہدہ ختم ہو سکتا ہے، لیکن تاریخ میں کردار ختم نہیں ہوتا۔ بعض شخصیات اپنے منصب سے نہیں بلکہ اپنی جدوجہد، قربانی اور قومی خدمات سے تاریخ میں مقام بناتی ہیں۔
1991 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں راجہ ممتاز راٹھور کو وزیراعظم آزادکشمیر بنایا گیا، جبکہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان جیسی قدآور شخصیت پارٹی کی قیادت میں موجود تھیں۔ اس واقعے کو محض ایک تاریخی حوالہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں پارٹی قیادت، پارلیمانی تجربے اور حکومتی صلاحیت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
جب میں پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں شامل ہوا تو اس وقت پارٹی کے لیے تنہا حکومت بنانا ایک واضح امکان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری شمولیت کے بعد جماعت کی نشستیں 13 سے بڑھ کر 29 تک پہنچیں۔ جب وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو مرکزی قیادت نے مجھ سے رائے طلب کی۔ میں نے سردار یعقوب احمد خان، چوہدری محمد یاسین اور چوہدری لطیف اکبر جیسے سینئر رہنماؤں کے نام تجویز کیے۔ یہ تینوں رہنما طویل سیاسی و پارلیمانی تجربہ رکھتے تھے۔ سردار یعقوب احمد خان وزیراعظم اور صدرِ ریاست کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ چوہدری محمد یاسین کئی دہائیوں سے پارلیمانی سیاست کا حصہ ہیں، جبکہ چوہدری لطیف اکبر متعدد مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود مرکزی قیادت نے فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا۔ مرکزی قیادت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے میں نے سردار یعقوب احمد خان کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ پونچھ کے حساس حالات کے پیش نظر وزیراعظم کے تمام دوروں میں ان کے ساتھ رہیں گے۔ ہم نے ان کے ساتھ پونچھ کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور کوشش کی کہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ فیصل ممتاز راٹھور میرے لیے چھوٹے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں ان کی صلاحیتوں، علم اور سیاسی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم ریاستی سیاست میں شخصی تعلقات سے بالاتر ہو کر ہمیں اداروں، جماعتوں اور عوامی نمائندگی کے اصولوں پر بات کرنا ہوگی۔
میں نے پیپلز پارٹی کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک موقع پر مرکزی قیادت کے سامنے یہ عرض کیا تھا کہ اس وقت پارٹی سیاسی اعتبار سے ایک مضبوط پوزیشن میں ہے، مگر سیاسی صف بندی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ وقت نے بعد میں اس خدشے کو درست ثابت کیا۔ میرا بنیادی سوال کسی ایک شخص کی مخالفت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے فیصلوں کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔
آج اگر کسی جماعت کا صدر، سابق وزیراعظم یا طویل عرصے تک پارلیمانی سیاست کرنے والا رہنما موجود ہو تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس کے تجربے اور سیاسی خدمات کو فیصلہ سازی میں کس حد تک اہمیت دی جا رہی ہے۔ آزادکشمیر مسلم لیگ ن میں راجہ فاروق حیدر خان اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم آزادکشمیر، سینئر پارلیمنٹیرین اور مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے طویل عرصے تک صدر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور پارٹی دونوں سطحوں پر طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔
اسی طرح شاہ غلام قادر ایک تجربہ کار سیاسی رہنما ہیں، جو دو مرتبہ سپیکر آزادکشمیر اسمبلی رہ چکے ہیں اور مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی صدارت کے دوران انہوں نے جماعت کی سیاسی تنظیم اور انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگر کسی سینئر رہنما کو وزیراعظم کے منصب کے لیے پہلے نامزد کیا جائے اور بعد میں فیصلہ تبدیل کر دیا جائے تو اس کے سیاسی و انسانی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی کارکن یا رہنما کی طویل وابستگی، خدمات اور عزتِ نفس کو ملحوظ رکھنا سیاسی جماعتوں کی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
دنیا کی سیاست ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قیادت کے لیے عمر واحد معیار نہیں۔ ملائیشیا میں مہاتیر محمد طویل سیاسی وقفے کے بعد دوبارہ وزیراعظم بنے۔ اس مثال سے کم از کم یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ عمر کو خود بخود تجربے اور صلاحیت کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
آزادکشمیر میں راجہ فاروق حیدر خان، چوہدری لطیف اکبر، چوہدری محمد یاسین اور شاہ غلام قادر جیسے رہنما کئی دہائیوں پر محیط پارلیمانی اور حکومتی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں حکومتیں دیکھی ہیں، آئینی مناصب سنبھالے ہیں اور ریاستی معاملات کو قریب سے سمجھا ہے۔ نوجوان قیادت کا آگے آنا بھی ضروری ہے۔ نئی نسل کو مواقع ملنے چاہییں، لیکن نئی قیادت اور سینئر قیادت کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا تسلسل سمجھنا چاہیے۔ تجربہ کوئی بوجھ نہیں، ریاستی سرمایہ ہے۔
کسی سینئر رہنما کو صرف اس بنیاد پر نظر انداز کرنا کہ اب نئے چہروں کو آگے لانا ہے، سیاسی تسلسل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جماعتوں میں نسلوں کے درمیان انتقالِ قیادت تب ہی صحت مند ہوتا ہے جب نئی توانائی کے ساتھ پرانا تجربہ بھی موجود ہو۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ باغ کے سردار خالد محمود چغتائی ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی کی سیاست کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی وابستگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اگر کسی ایسے کارکن پر کسی انتخابی معاملے کے حوالے سے شکایت سامنے آتی ہے تو مناسب راستہ یہ ہے کہ پارٹی باقاعدہ تحقیق کرے اور حقائق سامنے لائے۔ ایک طویل سیاسی سفر رکھنے والے کارکن کے بارے میں محض الزام کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔
اسی طرح پلندری کے سردار رئیس انقلابی ایک طویل عرصے تک پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے انتخابات میں نمایاں عوامی حمایت حاصل کی اور عملی سیاست میں متحرک کردار ادا کیا۔ اختلافات کے نتیجے میں ان کا استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونا بھی آزادکشمیر کی بدلتی سیاسی صف بندی کا حصہ ہے۔ مرکزی قیادتوں کو ان کارکنوں اور رہنماؤں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جنہوں نے دہائیوں تک جماعتوں کے پرچم تھامے رکھے۔ جماعتیں صرف انتخابات کے وقت بننے والے اتحادوں سے نہیں بنتیں؛ ان کی اصل شناخت وہ کارکن اور رہنما ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں بھی ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
آزادکشمیر کی سیاست کا ایک بنیادی حوالہ کشمیر اور پاکستان کا تعلق بھی ہے۔ مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان کا تاریخی نعرہ "کشمیر بنے گا پاکستان” ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ میں نے بھی اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد راولاکوٹ میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں قراردادِ الحاقِ پاکستان کی حمایت کی اور نعرہ دیا، "ہم ہیں پاکستان”۔
میرے نزدیک ان دونوں نعروں میں ایک تاریخی تسلسل موجود ہے۔ ایک نعرہ مستقبل کے عزم کو بیان کرتا ہے اور دوسرا موجودہ وابستگی کو۔ یہ اتفاق بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایک تاریخی نعرہ دھیرکوٹ سے بلند ہوا اور دوسرا میرے آبائی حلقے پاچھیوٹ سے۔ دونوں جغرافیائی اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
میری حکومت کے خاتمے کے بعد بھی میں نے کسی احتجاجی راستے کے بجائے عوامی سطح پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کشمیر اور پاکستان کے تعلق کے معاملے پر ہماری وابستگی واضح اور غیر مبہم ہے۔
پنجاب حکومت میں ذمہ داری کے دوران مجھے حکومتی نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ سیاسی نظام میں بہت سی خوبیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں، مگر ریاستی نظام کا بنیادی اصول قانون اور قواعد کی پاسداری ہے۔ مجھے ایک موقع پر اس وقت بھی سوال اٹھانا پڑا جب چیف سیکرٹری پنجاب نے وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ انتظامی اختیارات اور سیاسی ذمہ داریوں کی حدود کیا ہیں۔ بہرحال، میرا اصول ہمیشہ یہی رہا ہے کہ نظام افراد کی مرضی سے نہیں بلکہ قانون، قواعد اور آئینی حدود کے مطابق چلنا چاہیے۔
آزادکشمیر کو بھی اسی اصول کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک پریس کانفرنس نظر سے گزری جس میں پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین، فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب احمد خان موجود تھے۔ یہاں بھی بنیادی سوال شخصیات کا نہیں بلکہ جماعتی نظم اور سیاسی روایت کا ہے۔ اگر پارٹی کا صدر موجود ہو تو جماعتی سطح پر اس کے منصب اور کردار کی اہمیت واضح رہنی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے اندر ادارہ جاتی احترام، مشاورت اور تنظیمی تسلسل قائم رہے۔
مجھے بعض احباب کہتے ہیں کہ میں ٹکٹ کے معاملے پر پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے جذباتی تھا۔ میرا جواب ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انتخابات میں ہار اور جیت الگ موضوع ہے، لیکن اگر کسی سیاسی رہنما کے آبائی حلقے کا فیصلہ بھی کہیں اور بیٹھ کر کیا جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی قیادت کا دائرۂ اختیار کہاں تک ہے؟ سیاسی قیادت کا مطلب صرف عہدہ نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے درمیان اعتماد اور نمائندگی بھی ہے۔
نو منتخب وزیراعظم سید افتخار گیلانی ایک ایسے وقت میں حکومت سنبھال رہے ہیں جب آزادکشمیر کو انتظامی، سیاسی اور سماجی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاستی اداروں کو مضبوط کریں، انتظامی معاملات میں قانون اور قواعد کی پابندی کو یقینی بنائیں، سینئر سیاسی قیادت سے مشاورت کو اہمیت دیں اور نوجوان قیادت کے لیے بھی مؤثر مواقع پیدا کریں۔
پولیس کے حوالے سے بھی فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ میری تجویز ہے کہ آزادکشمیر پولیس کی ضروریات، خصوصاً گاڑیوں اور نقل و حمل کے وسائل، کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ نان کسٹم گاڑیوں کے حوالے سے وفاقی سطح پر زیرِ بحث یا سابقہ انتظامات کی قانونی اور انتظامی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کوئی قابلِ عمل طریقہ موجود ہو تو اسے قانون کے مطابق بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اگر نو منتخب وزیراعظم کو کسی معاملے میں میری رائے یا تعاون درکار ہو تو میں ریاست کے وسیع تر مفاد میں اپنی آراء پیش کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی مفاد ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ بنی امیہ کے ایک حکمران نے ایک معلم کو دربار میں طلب کیا۔ معلم نے سرکاری اہلکار کے ذریعے بادشاہ تک یہ پیغام پہنچایا کہ اگر مجھے کسی غلطی کی وضاحت کے لیے بلایا جا رہا ہے تو میں حاضر ہوں، لیکن اگر میری بے توقیری مقصود ہے تو اس کا اثر صرف مجھ تک محدود نہیں رہے گا۔ معاشرہ اسے معلم کی بے توقیری سمجھے گا۔
یہ واقعہ ہمیں ایک بنیادی اصول سمجھاتا ہے کہ ریاست میں عہدے بدلتے رہتے ہیں، مگر عزتِ نفس اور قومی خدمت کی قدر باقی رہنی چاہیے۔
آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں میں موجود سینئر رہنما، سابق وزرائے اعظم، پارٹی صدور، پارلیمنٹیرین اور نظریاتی کارکن محض سیاسی عہدوں کے حامل افراد نہیں؛ وہ اس ریاست کی سیاسی تاریخ کے زندہ کردار ہیں۔
اختلاف کیا جا سکتا ہے، فیصلے مختلف ہو سکتے ہیں، نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے، لیکن کسی کی دہائیوں پر محیط سیاسی خدمات کو محض ایک فیصلے سے بے معنی نہیں کیا جا سکتا۔
آج جو کچھ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان کے دیرینہ کارکنوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بھی تاریخ کا حصہ بنے گا۔
وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، عہدے ختم ہو جاتے ہیں، مگر کردار، فیصلے اور ان کے اثرات تاریخ کے صفحات پر باقی رہتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ آزادکشمیر کی سیاست میں اختلاف کے ساتھ احترام، تبدیلی کے ساتھ تسلسل، نوجوان قیادت کے ساتھ تجربے اور اقتدار کے ساتھ آئین و قانون کی پاسداری کا راستہ مضبوط ہو۔ یہی ریاست کے مستقبل کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔