بھارتی پنجاب: بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران بطور رکن پارلیمان اپنے دور کا دلچسپ واقعہ سنایا، جب انہوں نے ایک ضلعی ڈپٹی کمشنر کو منتخب نمائندوں کے لیے مقررہ پروٹوکول یاد دلایا۔

بھگونت مان کے مطابق وہ برنالہ کے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے لیے گئے تو افسر نے انہیں مناسب پروٹوکول نہیں دیا۔ بعد ازاں پارلیمنٹ میں اس معاملے پر گفتگو ہوئی، جہاں انہیں منتخب اراکین پارلیمان کے حقوق اور پروٹوکول سے متعلق ایک کتابچہ دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کتابچہ پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے لیے گئے اور جب افسر نے انہیں بیٹھنے کا کہا تو انہوں نے کتابچہ سامنے رکھ دیا اور بتایا کہ پروٹوکول کے مطابق منتخب رکن کے بیٹھنے تک ڈپٹی کمشنر بھی نہیں بیٹھ سکتا۔

بھگونت مان کے مطابق کتابچے میں یہ بھی درج تھا کہ ڈپٹی کمشنر کو اپنے دفتر کے مرکزی دروازے پر منتخب رکن پارلیمان کا استقبال کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسر سے کہا کہ وہ پہلے باہر جا کر کھڑے ہوں گے اور دوبارہ آنے پر انہیں باقاعدہ ریسیو کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد افسران میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ بھگونت مان اپنے پاس پروٹوکول سے متعلق کتابچہ رکھتے ہیں اور انہیں منتخب نمائندوں کے حقوق کا علم ہے، اس لیے ان کے ساتھ ضابطے کے خلاف رویہ اختیار نہ کیا جائے۔