تحریر: احسن اقبال
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!