فیصل آباد: پاکستان میں موجود برصغیر کے معروف انقلابی بھگت سنگھ کی آبائی حویلی آج بھی تاریخ سے محبت اور ورثے کی حفاظت کی ایک منفرد مثال بنی ہوئی ہے۔ اس تاریخی گھر کو خریدنے کے لیے مبینہ طور پر 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی گئی، تاہم اس کی دیکھ بھال کرنے والے پاکستانی خاندان نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔

اردو پوائنٹ کی ایک دستاویزی رپورٹ کے مطابق، یہ حویلی فیصل آباد کے قریب تحصیل جڑانوالہ کے گاؤں بنگے، چک نمبر 105 گ ب میں واقع ہے، جہاں بھگت سنگھ نے اپنے بچپن کے ابتدائی ایام گزارے تھے۔ یہ مقام آج بھی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور سکھ زائرین کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں یہ گھر ثاقب ورک کے دادا فضل قادر ورک کو الاٹ ہوا، جو ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ اس کے بعد ورک خاندان کی کئی نسلیں اس تاریخی عمارت کی دیکھ بھال کرتی آ رہی ہیں۔ ثاقب ورک نے 2005 میں اپنے والد چوہدری محمد اقبال ورک کے ساتھ اس ذمہ داری میں حصہ لینا شروع کیا، جبکہ 2016 میں والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی طیب اقبال ورک کے ساتھ حویلی کی نگہداشت جاری رکھی۔

اس تاریخی عمارت کے دو کمروں کو تصویری گیلری میں تبدیل کیا گیا ہے، جہاں بھگت سنگھ کی زندگی اور ان کے عہد سے متعلق تقریباً 400 تصاویر محفوظ ہیں۔ یہاں ان کے خلاف درج ہونے والی تاریخی ایف آئی آر کی نقل بھی آویزاں ہے۔ اس کے علاوہ پرانے چرخے، پتھر کی چکی، مٹی کے چولہے اور لوہے کی تجوری سمیت کئی قدیم اشیا بھی موجود ہیں، جو ماضی کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔

حویلی کے صحن میں موجود بیری کا درخت بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ ثاقب ورک کے مطابق، یہ درخت بھگت سنگھ نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ یوں یہ عمارت محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کی یادگار ہے جس کی تاریخ آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

رپورٹ میں ثاقب ورک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس حویلی کو خریدنے کے لیے 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کی، لیکن خاندان نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کے نزدیک یہ گھر بزرگوں سے ملنے والی ایک امانت ہے، جسے صرف مالی فائدے کی خاطر فروخت کرنا مناسب نہیں۔

ورک خاندان مختلف ممالک سے آنے والے سکھ زائرین اور دیگر مہمانوں کی میزبانی بھی کرتا ہے اور حویلی کی روزمرہ دیکھ بھال کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔ تاہم، اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے مستقل انتظامات اور ادارہ جاتی سرپرستی کی ضرورت بھی اہمیت رکھتی ہے۔

بھگت سنگھ کی آبائی حویلی کی یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تاریخی ورثے کی قدر ہمیشہ اس کی مالی قیمت سے نہیں لگائی جا سکتی۔ بعض عمارتیں اپنے اندر ایسی یادیں، واقعات اور تاریخی تعلقات سموئے ہوتی ہیں جو نسلوں اور سرحدوں سے آگے تک انسانی رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔

ورک خاندان کا حویلی فروخت نہ کرنے کا فیصلہ تاریخ سے وابستگی اور ورثے کی حفاظت کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسے تاریخی مقامات کو محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ ادارے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ماضی کی ان نشانیوں سے واقف رہ سکیں۔