تحریر: انور عباس انور مرحوم

پنجاب کی بیوروکریسی کا ایسا نام ہے جس کے ذکر سے سب موادب ہو جاتے ہیں۔ شرافت ، مخلوق خدا میں مستحقین کا ہاتھ تھام کر انہیں عزت و احترام دینا انکا وطیرہ ہے۔

انتہائی شفیق ، نفیس ، وضع دار اور رکھ رکھاو انکا کل سرمایہ، نمود و نمائش کے جنون سے پاک صاف طبیعت کے مالک شعیب بن عزیز کے نام سے مشہور ہیں۔۔

شعیب بن عزیز 21 اکتوبر کو اس دنیا میں آئے گورڈن کالج راولپنڈی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے۔ تعلیم کے بعد چاکری کا فیصلہ کیا یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکار کی چاکری کرنے کا فیصلہ انکا اپنا تھا یا گھرکے بڑوں کی سوچ کا نتیجہ۔

پنجاب حکومت کے متعدد محکمہ جات میں کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اورشعبہ تعلقات عامہ میں ڈائریکٹر اور پھر ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر سکریٹری اطلاعات کے منصب پر بھی کام کیا ہے۔ اسی طرح پنجاب فلم سنسر بورڈ کے ممبر اور پھر چیئرمین پنجاب فلم سنسر بورڈ بھی بنائے گئے۔

ڈی جی پی آر پنجاب کےمنصب پر سب سے زیادہ عرصہ تعیناتی انہی کی ہے ۔ ان کے ڈی جی پی آر ہوتے وقت صحافیوں کے لیے انکے آفس کے در وا ہوتے تھے۔ انکے جائز مسائل چٹکی بجاتے حل ھوا کرتے تھے

میری ان سے ذاتی طور شناسائی نہیں ہے اور انکے ڈرائیگ روم تک رسائی ہے۔ اور ناہی کسی قسم کے تعلقات کبھی بھی رہے ہیں اور ناہی اب ہیں۔ صرف فیس بک پر ان سے دوستی ہوئی۔ انکی شہرت ایک اچھے آفیسر کی سنی اور انکا قدر دان ہوگیا۔ ذاتی بالمشافہ ملاقات محض چند منٹوں کی رہی جو یاد گار بن گئی ۔ تفصیل اس ملاقات کی یوں ہے کہ میں اپنے استاد محترم مجلس ترقی اردو پنجاب کے ناظم منظور اخترتحسین فراقی سےان کے جواں سال فرزند کی وفات پر اظہار تعزیت کے لیے ان کے دفتر میں موجود تھا وہیں شعیب بن عزیز بھی تشریف لے آئے ۔ وہاں تحسین فراقی نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ شعیب ! یہ میرے شاگرد انور عباس ہے اس موقعہ انہوں نے جو جملہ ارشاد فرمایا وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا کیو نکہ ان کا جملہ ہمارے معاشی حالات کا عکاس تھااورحالات کی ستم ظرہفی بھی ۔اب وہ جملہ تھا ” کہ فراقی صاحب ! استاد تو انور عباس لگ رہے ہہں اور آپ شاگرد "علیک سلیک کے بعد میں نے انہیں اور تحسین فراقی صاحب کو اپنی کتب ” خاص لوگ ( کالموں کا مجموعہ) "اور ” اقبال کے” شاہین ” پیش کر نے کا شرف حاصل کیا۔

دوران گفتگو تحسین فراقی صاحب نے ان سے فرمائش کی کہ وہ بھی اپنا کلام شائع کرواکر ” صاحب کتاب ” ہو جائیں جس پر شعیب بن عزیز نے ” ہاں ” تو کردی لیکن لگتا نہیں ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔

شائد شعیب بن عزیز اکیسویں صدی کے پہلے شاعر ہونگے جنہوں نے اپنا کلام کتابی صورت میں نہ چھپوایا ہوگا۔ انکے متعلق ان کے قدردانوں کا کہنا ہے کہ شعیب بن عزیز نے آج تک اپنی تخلیقات کو مسودہ کی شکل کسی اخباری دفتر نہیں بھجوایا۔ انکے کریڈٹ پر یہ اعزاز بھی ہے کہ وہ ” صاحب کتاب ‘ نہیں ہیں پھر بھی انکے اشعار زبان زد عام ہیں۔ ا نکا یہ شعر عام پڑھا خاتا ہے۔

” اب اداس پھرتے ہوں سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں "

ان کا یہ شعر بھی بہت مقبول عام ہوا ہے

ابو ایوب استنبول میں ، لاہور میں داتا !

مجھے مولی نے ہر جا اپنی نگرا نی میں رکھا ہے۔

انہو ں نےشاعری میں نظم ، غزل ، مرثیہ ، اور مثنوی سمیت سب اصناف پر لکھا ہے۔

شعیب بن عزیز دوسروں کے کام آنے پر شور و غوغا نہیں کرتے اس فرمان کہ کسی کو دیتے وقت دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو” پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں کہ میں نے اسکی اجازت نہیں لے رکھی۔

انکی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ وہ قومی خزانے کو قوم کی امانت ہی سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری منصب اور مرتبے کو اپنی اور اپنے خاندان کی ترقی کے لیے استعمال نہیں کیا۔

اس کی ایک جھلک دیکھیں کہ انہیں چیئرمین پنجاب فلم سینسر بورڈ بنایآ گیآ تو اس وقت سینزر بورڈ کا دفتر لٹن روڈ سے اقبال ٹاون منتقل ہوچکا تھا ۔ انہوں اپنے عہدے کا چارج کاغذات میں لے لیا لیکن عملی طور پر سنبھالنے سے انکار کر دیا کیونکہ دفتر کہ بلڈنگ کا جو کرایہ ادا کیا جا رہا تھا وہ بلڈنگ کے لحاظ سے بہت زہادہ تھا لہذا اللہ کے اس بندے نے اپنے عملے کو صاف صاف احکامات دیئے کہ وہ اس وقت تک دفتر نہیں بیٹھیں گے جبکہ نئی بلڈنگ میں دفتر منتقل نہیں کرتے۔

انکا حلقہ احباب مختصر اور منتخب کردہ افراد پر مشتمل ہے۔ شعیب بن عزیز مشاعروں کے شاعر نہیں اس لیے مشاعرے پڑھنے سے معذرت کر لیتے ہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ انکا سب سرمایہ انکی عزت نفس اور احباب کی محبت ہے۔

انکی دستیاب کلام سے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

لکھا رکھا ہے عہد ترک الفت

مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں لیکن

کچھ خواب نہیں دیکھیں تو گزارہ نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت لکھتے وقت انکا قلم انکے دل کی ترجمانی کرتا ہے مثلا شعیب بن عزیز اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

دوستی کا دعوی کیا ، عاشقی سے کیا مطلب

میں ترے فقیروں میں ، میں ترے غلاموں میں

اپنے شہر سے انہیں بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی دوسرے کرتے ہیں

اسکا اظہار شعیب بن عزیز یوں کرتے ہیں

کوئی روکے کہیں دست اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

یہ مال و جان میرے تجھ پہ صدقے

ترے محبوب پر اولاد مولا !

مرےلاہور پر بھی اک ںظر کر

ترا مکہ رہے آباد مولا