جھنگ: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ریلی میں پیرا فورس کی سرکاری گاڑی کے مبینہ غلط استعمال پر ڈپٹی کمشنر جھنگ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد منتخب نمائندوں کے پروٹوکول اور سرکاری وسائل کے استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

معروف اینکر پرسن رائے ثاقب کھرل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں سوال اٹھایا کہ اگر ثاقب چدھڑ کے پروٹوکول میں پیرا فورس کی گاڑی شامل ہونے پر ڈپٹی کمشنر جھنگ کے خلاف فوری کارروائی کی گئی تو متعلقہ سیاسی شخصیت سے یہ کیوں نہیں پوچھا گیا کہ وہ کس حیثیت میں سرکاری فورس کا پروٹوکول حاصل کر رہے تھے۔

رائے ثاقب کھرل نے پنجاب میں منتخب اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی کے ساتھ پولیس کی گاڑیوں کے پروٹوکول پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سکیورٹی صرف منتخب نمائندوں کا حق ہو، جبکہ عام شہریوں کے تحفظ کے مسائل نظرانداز کیے جا رہے ہوں۔

اس واقعے کے بعد صحافتی حلقوں میں سرکاری وسائل کے استعمال اور منتخب نمائندوں کی جوابدہی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ سرکاری مشینری کے مبینہ غلط استعمال پر صرف انتظامی افسران کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ ان سیاسی شخصیات سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے جو ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری وسائل اور سکیورٹی استعمال کرتی ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری وسائل کے استعمال کے قواعد پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں تمام متعلقہ افراد کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے۔