باغ شہر سے کوئی 12 کلومیٹر کے فاصلے پر۔دھیرکوٹ سے 20 اور راولاکوٹ سے 30 یا 35 کلومیٹر کی دوری پر ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم ہوچکا ہے جہاں محنت کش،دیہاڑی دار،بے روزگار اور یتیم و بے سہارا بچوں کا ایک ایسا مسکن بن رہا ہے جہاں ریاست کا اصل تصور "مفت تعلیم” پر مکمل عمل ہوگا۔جہاں علم کسی باوسائل طبقے کی میراث یا جاگیر نہیں ہوگا۔جہاں سے انشاءاللہ اس ریاست کے کم آمدن والدین کے بچے مستقبل کے معمار بنیں گے۔ان والدین کے بچوں کو اعلی تعلیم کے بند دروازے کھلے ملیں گے۔ان کے مسدود راستے کی رکاوٹیں خود بخود ہٹیں گی۔وہ بھی ریاست میں اپنے کامیابی کے جوہر دکھا سکیں گے۔یہ پوری ریاست آزادکشمیر میں واحد ایسا سرکاری تعلیمی ادارہ ہوگا جو معیار کے اعتبار سے بیکن ہائوس،سٹی سکول،برن ہال،صادق پبلک سکول یا کسی بھی کیڈٹ کالج کےمعیار کا ہوگا لیکن فرق صرف یہ ہوگا کہ ان بڑے سکولوں میں غریب کا بچہ تعلیم تو کیا اس کی عمارت کے اندر جھانکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔جہاں ان لارڈ صاحبان کے پک اینڈ ڈراپ کے لئے بڑے بڑے ڈالے اور فارچونرز کھڑی ہوتی ہیں مگر کیا سین ہوگا جب اس سکول میں محنت کش کابیٹا ٹھاٹھ سے تعلیم حاصل کرے گا۔جب اس کا بیٹا اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے گا۔اس پر ریاست لاکھوں روپے ماہانہ لگائے گی۔گویا اس گوہر نایاب کو اس کا حق ملےگا۔لوگ اس ادارے پر صرف اس لئے فخر کریں گے کہ یہ ادارہ معاشرے کے اس پسے ہوئے طبقہ کے بچوں کو ان کا حق دے گا جن کا ان کے والدین کی غربت میں کوئی دوش نہیں تھا۔اس سکول کے قیام سے لے کر جگہ کے انتخاب تک ایک ایک چیز کا کریڈٹ صرف اور صرف مشتاق منہاس کا ہے اور اہل باغ ان کے شکر گزار ہیں۔سردار قمر الزمان کے بعد باغ میں جس نے یہ بہت بڑا پراجیکٹ لایا وہ مشتاق منہاس ہے۔دل کا ہسپتال ہو یا دانش سکول کا قیام۔۔۔کاوش مشتاق منہاس کی ہے۔بگ سٹی کا درجہ دلانے کا کریڈٹ اگر ضیاء القمر کا ہے تو اس کا پہلی بار اعلان مشتاق منہاس نے باغ جلسے میں کیا۔اپنے محسنوں کو مت بھولیں۔اگر سردار قمر الزمان نہ ہوتا تو باغ میں وویمن یونیورسٹی،الائیڈ ہسپتال،کالج آف ایجوکیشن نہ ہوتے۔اسی طرح اگر مشتاق منہاس نہ ہوتا تو سوچیں وی نا کہ دانش سکول باغ ہوتا۔پونچھ ڈویژن پتن سے شروع ہوتا ہے اور پیر پنجال تک جاتا ہے،کوہالے سے شروع ہوکر ہجیرہ اور چکار سدھن گلی تک جاتا ہے۔صرف باغ ہی دانش سکول کے لئے نہیں تھا۔۔۔

بس ایک بات مشتاق منہاس آپ بھی اپنے پلے باندھ لیں۔بھلے سپورٹنگ سٹاف میں بھرتیوں میں اپنے لوگوں کو اکاموڈیٹ کریں وہ بھی لمبردار یا چوہدراہٹ والے نہیں کام والے۔۔۔۔لیکن اکیڈمک اور انتظامی سٹاف 💯 فیصد میرٹ پر بھرتی ہونے دیں اس سے بالکل ہاتھ کھینچ لیں۔داخلے کے سلسلے میں بھی 40 ہزار سے کم آمدن والی شق پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔سفارشیں کرکے ویسے بھی کیا کرنا ہے؟ باغ کے لوگوں کے بارے میں شیفلڈ والے ڈاکٹر عاصم(اللہ انہیں غریق رحمت کرے) کہا کرتے تھے کہ نعمانپورہ کا رہنے والا ایک سکھ جو تقسیم سے پہلے آدھے باغ کے لوگوں کی چٹھیاں پڑکر سنایا کرتا تھا اس کو تقسیم کے وقت ڈھلی جاکر مارا تھا انہوں نے۔ پتہ نہیں میرے ساتھ بھی یہی کریں گے۔۔۔اس لئے ووٹ کو بھول جائیں وہ تو لوگ قمرالزمان کو بھی نہیں دیتے 2006 کے بعد سے۔۔۔جس نے پورے کشمیر کے لیڈروں کو نتھ ڈال کر بڑے منصوبے باغ لائے۔

تحریر: زاہد عباسی