اسلام آباد: مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کی تاریخ کی ایک نمایاں علمی، ادبی اور سیاسی شخصیت تھے، جنہوں نے تحریکِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی وفات پر معروف صحافی، شاعر اور خطیب شورش کاشمیری نے ایک درد انگیز مرثیہ کہا، جس میں مولانا آزاد کی علمی عظمت، ان کی شخصیت اور ان کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو مؤثر انداز میں بیان کیا گیا۔
شورش کاشمیری نے اپنے مرثیے میں مولانا آزاد کی وفات کو ایک ایسا سانحہ قرار دیا جس پر غم کے باوجود یقین کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں اس عظیم شخصیت کی جدائی کا دکھ نمایاں ہے، جس کی فکر، علم اور قلم نے اپنے عہد پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
مرثیے کے اشعار میں شاعر کہتا ہے:
”عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے“
شورش کاشمیری نے مولانا آزاد کو ایک ایسی ہمہ گیر علمی شخصیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جن کی فکر میں کئی ذہنوں کی وسعت اور جن کے قلم میں غیر معمولی قوتِ اظہار سمائی ہوئی تھی۔ وہ ان کی وفات کو محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ علم و ادب اور قومی فکر کے لیے ایک بڑے نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مرثیے کے دوسرے بند میں وہ کہتے ہیں:
”کئی دماغوں کا ایک انسان سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زبان سے زورِ بیاں گیا ہے“
یہ اشعار آج بھی مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور علمی ورثے کو یاد کرنے کا ایک مؤثر ادبی حوالہ ہیں۔ شورش کاشمیری کے اس مرثیے میں عقیدت، غم اور ایک عہد کے خاتمے کا احساس نمایاں ہے۔